سونے کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہوگئی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سونے کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہوگئی؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
کراچی:(آئی پی ایس) سونے کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نرخ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں ایک بار پھر بڑھ گئے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 92ڈالر کے بڑے اضافے کے نتیجے میں 4ہزار 424ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ۔
دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں یکدم 9ہزار 200روپے کے اضافے سے نئی قیمت 4لاکھ 64ہزار 762روپے ہو گئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 7ہزار 888روپے بڑھ کر 3لاکھ 98ہزار 458روپے کی سطح پر آگئی۔
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 267روپے کے اضافے سے 8ہزار 023روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 229روپے کے اضافے سے 6ہزار 878روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل (ہفتے کے دن) سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت کم ہوئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں 47 ڈالر فی اونس جب کہ مقامی سطح پر 4700 روپے فی تولہ اور 4030 روپے فی 10 گرام نرخوں میں کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ اسی طرح ملک میں چاندی کی قیمت بھی ہفتے کے روز 106 روپے فی تولہ اور 91 روپے فی 10 گرام کم ہوئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکے پی کے میں آپریشن کی تیاری ہو رہی جو کہ بدمعاشی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پی کے میں آپریشن کی تیاری ہو رہی جو کہ بدمعاشی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے، ٹرمپ پاکستان اور چین کا افغانستان میں دہشتگردوں کے خاتمے، مسئلہ کشمیر کے حل پر زور جعلی ادویات کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، ڈریپ کے ریپڈ الرٹس جاری ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا فیض حمید کے بھائی نجف حمید پٹواری کے خلاف مقدمہ درج ، ایف آئی آر سب نیوز... سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ برقرار، ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں یکدم سونے کی فی تولہ
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز