سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نرخ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں ایک بار پھر بڑھ گئے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 92ڈالر کے بڑے اضافے کے نتیجے میں 4ہزار 424ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ۔ دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں یکدم 9ہزار 200روپے کے اضافے سے نئی قیمت 4لاکھ 64ہزار 762روپے ہو گئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 7ہزار 888روپے بڑھ کر 3لاکھ 98ہزار 458روپے کی سطح پر آگئی۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 267روپے کے اضافے سے 8ہزار 023روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 229روپے کے اضافے سے 6ہزار 878روپے کی سطح پر آگئی۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل (ہفتے کے دن) سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت کم ہوئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں 47 ڈالر فی اونس جب کہ مقامی سطح پر 4700 روپے فی تولہ اور 4030 روپے فی 10 گرام نرخوں میں کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ اسی طرح ملک میں چاندی کی قیمت بھی ہفتے کے روز 106 روپے فی تولہ اور 91 روپے فی 10 گرام کم ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت فی 10 گرام فی تولہ روپے فی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔