سائبر فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن؛ 51لاکھ سے زائد غیر قانونی سمز بلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سائبرفراڈ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک سال میں 51 لاکھ سے زائد غیر قانونی سمز بلاک کردی گئیں ۔ غیر قانونی سم فروخت کرنے والی 83 ویب سائٹس بھی بلاک کردی گئی۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نےٹیلی کام ڈیٹا بیس صاف کرنے کیلئے ایک سال میں 51 لاکھ 22 ہزار سمز بلاک کردی گئیں، پی ٹی اے نے غیر قانونی سم فروخت کرنے والی 83 ویب سائٹس بھی بلاک کر دیں، ایک سال میں 8 لاکھ 91 ہزار غیر فعال سمز بلاک یا ری سائیکل کی گئیں۔
فوت شدہ افراد کے نام پر موجود 32 لاکھ سمز بلاک کی گئیں، منسوخ یا ضبط شدہ شناختی کارڈز پر جاری 69 ہزار سمز بند کی گئیں۔ ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ 7 لاکھ 83 ہزار سمز بلاک کی گئیں، وطن واپس بھیجے گئے غیر ملکیوں کی 1 لاکھ 79 ہزار سمز بلاک کی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ساتھ مل کر کارروائیاں کیں، ایک سال میں 24 شہروں میں ملکی و غیر ملکی غیر قانونی سمز کے خلاف 76 چھاپے مارے گئے، ان چھاپوں میں 5300 مقامی سمز اور8 ہزار غیر ملکی سمز ضبط کی گئیں۔
ایک سال کے دوران 99 بائیومیٹرک ڈیوائسز، 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد ڈیجیٹل فنگر پرنٹس ضبط کیے گئے، غیرقانونی مقامی سمز کے حوالے سے 44چھاپوں میں 71 افراد گرفتار کیے گئے، بین الاقوامی سمز کے حوالے سے 32چھاپوں میں 46 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایک سال میں سمز بلاک کی گئیں
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔