26 نومبر احتجاج، علیمہ خان کی بریت کی درخواست، فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر احتجاج کے کیس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمےکی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت علیمہ خان کی جانب سے دائر بریت کی درخواست پر فریقین کے وکلاء کی بحث مکمل ہو گئی۔
علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ 26 نومبر احتجاج میں علیمہ خان کا قصور یہ ہے کہ بھائی سے جیل میں ملاقات کی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پارٹی اور عوام تک پہنچایا، بانی پی ٹی آئی نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا تھا، پُرامن احتجاج کو جمہوری و آئینی تحفظ حاصل ہے
وکیل فیصل ملک نے کہا کہ مقدمے میں بتایا گیا کہ علیمہ خان نے میڈیا کے ذریعے احتجاج کا پیغام دیا، کسی صحافی یا میڈیا چینل کو اس مقدمے میں گواہ یا نامزد نہیں کیا گیا۔
عدالت نے وکیل سے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ میڈیا کو بھی اس مقدمے میں پھنسایا جائے۔ جس پر علیمہ خان کے وکیل نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ علیمہ خان اور صحافیوں نے ایک جیسا پیغام رپورٹ کیا، جیل ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا کوئی گواہ موجود نہیں۔
عدالت نے وکیل فیصل ملک سے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے صرف احتجاج کا پیغام دیا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ جی ہاں علیمہ خان نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا، مقدمے میں شامل دفعات کسی طور ملزمہ پر لگے الزامات کو ثابت نہیں کرتیں، قانون میں ایسا نہیں لکھا کہ پیغام دینے والا ملزم ہو، انسداد دہشت گری ایکٹ کی سیکشن 6 میں درج شقیں ملزمہ کے جرم کو ثابت نہیں کرتیں، یہ کیس بنتا ہی نہیں، یہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی 5 شقوں کے تحت فرد جرم عائد کی، ملزمہ پر فرد جرم تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی، سیاسی احتجاج کے دوران سارا کنٹرول اور منتظمین کے پاس ہوتا ہے، تھیوری آف کنٹرول کہتا ہے کہ کسی بھی ایسے احتجاج میں ملزم کے پاس سارا کنٹرول ہوتا ہے، میڈیا کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، میڈیا نے کون سا اپنا وزیراعظم بنانا تھا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ لوگ میڈیا کے کہنے پر باہر نہیں آئے، میڈیا کو گواہ کیوں بنائیں جب یہ خود مان رہے ہیں ہم نے اس احتجاج کیا، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگ ہمارے کہنے پر باہر آئے لیکن عدالت کے سامنے نہیں مان رہے۔ پراسیکیوٹر نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاکس کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر عدالت کو سنایا، آئین میں لکھا ہے، کوئی بھی احتجاج اور ریلی قانون کے دائرے میں ہوگی، ملزمان نے حکومت گرانے کے لیے پُرتشدد احتجاج کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے میڈیا گفتگو میں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا احتجاج کا این او سی ہو یانہ ہو ہم نہیں مانیں گے، یہ کیسا پُرامن احتجاج تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 170زخمی ہوئے تھے، پورے ملک میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، ملک کو جام کر دیا گیا، احتجاج کے وقت ملزمان خود مان رہے تھے، ہم نے ملک بند کر دیا، خیبر پختونخوا سے مسلح جتھے پنجاب لائے گئے، مقدمے میں 18 گواہاں ریکارڈ ہو چکے ہیں، اس اسٹیج پر بریت کی درخواست کا کوئی جواز نہیں، عدالت سے استدعا ہے ملزمہ کی درخواست بریت خارج کی جائے۔
26ویں ترمیم کے ذریعے عوام کا حق حکمرانی ختم کردیا گیا: علیمہ خان
۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: احتجاج کا پیغام دیا بریت کی درخواست علیمہ خان نے علیمہ خان کی کہ علیمہ خان بانی پی ٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم