یورپی یونین کے کاربن قوانین برآمدات کے لیے سنگین خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری ملکی معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ صارفین کو اچھی سروس اور سستی بجلی مل سکے، یورپی یونین کے نئے کاربن قوانین ملکی و کراچی کی برآمدات کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔کاروباری برادری سے گفتگوکرتے ہوئے میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کی نجکاری پالیسی معاشی استحکام کی جانب درست قدم ہے تاہم اس میں تاخیر سے ملکی معیشت مسلسل جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے نجکاری کمیشن کی جانب سے منافع بخش بجلی تقسیم کار اداروں آئیسکو، فیسکواورگیپکو کے لیے اس ماہ اظہارِدلچسپی (EOIs) جاری کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اورکہا کہ اس اقدام سے قومی خزانے کوپہنچنے والے بھاری نقصانات کا سلسلہ بند ہوسکے گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً رائفیسن انویسٹمنٹ کے مشورے سے ترکی کے کنسورشیم کی دلچسپی، پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے سائنڈک میٹلز، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن اورنیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کونجکاری کی فہرست میں شامل کرنے کوبھی ایک دانشمندانہ فیصلہ قراردیا جوان اداروں کی اصل صلاحیت کواجاگرکرے گا۔میاں زاہد حسین نے خبردارکیا کہ اگربرآمدی شعبہ یورپی یونین کے کاربن بارڈرایڈجسٹمنٹ میکنزم کے تحت نافذ ہونے والے نئے اورحتمی نظام سے خود کو بروقت ہم آہنگ نہ کرسکا تونجکاری کے یہ تمام فوائد زائل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کاربن بارڈرایڈجسٹمنٹ میکنزم نظام یکم جنوری 2026 سے باضابطہ طورپرنافذ ہوچکا ہے۔میاں زاہد حسین کے مطابق کراچی کے برآمد کنندگان اس وقت فوری بحران کا شکارہیں کیونکہ یورپی خریدارپاکستانی سپلائرزسے عملی طورپر’’کاربن پاسپورٹ‘‘ کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں کاربن ٹیکس سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی اورسائٹ جیسے صنعتی علاقوں میں موجود یونٹس زیادہ متاثرہوں گے کیونکہ وہاں فرنس آئل کا استعمال کیا جاتا ہے، جنہیں یورپی قوانین کے تحت زیادہ کاربن شدت والا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔