اسلام آ باد:

حکومت نے صارفین کو مزید ریلیف دینے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں بجلی سستی کرنے کا پلان بھی سامنے آگیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق کیپٹو پاور لیوی عائد کرنے کے بعد اس رقم کو بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے، جس سے پاور سیکٹر میں ریلیف کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

حکومتی ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی   کی رپورٹ کے مطابق کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ جیسے جیسے کیپٹو پاور لیوی کی شرح میں اضافہ ہوگا، اسی تناسب سے بجلی کے نرخوں میں زیادہ ریلیف دینا ممکن ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والا فائدہ بجلی صارفین تک منتقل کرنے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔

ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ماہانہ جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ براہ راست ہر ماہ دینے کے بجائے 2 ماہ کے وقفے سے بجلی کے نرخوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنے کا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کا اطلاق مختلف مراحل میں کیا جائے گا۔

منصوبے کی تفصیلات کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس پر فوری طور پر 5 فیصد لیوی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ فروری 2026 میں لیوی 15 فیصد اور اگست 2026 میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی شرح 20 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس سے حاصل ہونے والی رقم پاور سیکٹر کے تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کے ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے ک لیوی کی عدم ادائیگی کی صورت میں کیپٹو پاور پلانٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی جب کہ مستقل ڈیفالٹ کی صورت میں متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔ ہر کیپٹو پاور پلانٹ گیس یا ایل این جی کے استعمال پر وفاقی حکومت کو لیوی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیپٹو پاور پلانٹس کیپٹو پاور لیوی بجلی صارفین صارفین کو جائے گی کرنے کا کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش