حکومت کا بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
شہباز شریف حکومت نے بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا، آئی ایم ایف کی شرط پرکیپٹوپاور لیوی عائد کرنے سے بجلی سستی کرنےکی راہ ہموار ہو گئی۔ حکومت کی جانب سے کیپٹوپاور لیوی کی رقم سے ماہانہ بنیادوں پربجلی کا ریلیف دینےکامنصوبہ بنایاگیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہےکہ حکومت کوکیپٹوپاورلیوی کی شرح بڑھنے پربجلی میں زیادہ ریلیف دینےکی توقع ہے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سےکیپٹو پاور لیوی کاریلیف بجلی صارفین کومنتقل کرنےکی منظوری دی جاچکی ہے۔ حکومتی ذرائع کےمطابق ماہانہ جمع ہونےوالی لیوی کا فائدہ 2ماہ کے وقفے سے دینے کا پلان ہے۔ وفاقی حکومت نے کیپٹوپاورپلانٹس پرمرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنےکا قانون لاگو کیا ہے۔ کیپٹو پاور پلانٹس پرفوری طورپر 5 فیصدلیوی کانفاذکیا گیا ہے۔ ؎ دوسرے مرحلےمیں کیپٹوپاورپلانٹس پر لیوی کی شرح 10فیصد اور فروری2026 میں15جبکہ اگست 2026 میں کیپٹو پاورپلانٹس پر لیوی 20فیصد ہو جائے گی۔ لیوی کی رقم پاورسیکٹرکے تمام کیٹگری کےبجلی صارفین کے لیے ٹیرف کم کرنےپراستعمال کی جائے گی۔ لیوی کی عدم ادائیگی پرکیپٹو پاورپلانٹس کےخلاف کارروائی ہوگی اورمستقل ڈیفالٹ پرمتعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کوگیس فراہمی منقطع کردی جائےگی۔ہرکیپٹو پاور پلانٹ گیس یاایل این جی کےاستعمال پروفاقی حکومت کولیوی ادا کرنےکاپابند ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بجلی صارفین لیوی کی
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز