ہمیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے یا انہیں عدالت لایا جائے،وکیل فیصل ملک کی عدالت سے استدعا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جیل حکام بار بار توہین عدالت کررہے ہیں، بانی سے ملنے نہیں دیا جارہا،استدعا کی ہے ہمیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے یا انہیں عدالت لایا جائے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نومئی کیسز میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش کیا جانا چاہئے،بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں ہیں لیکن 9مئی کیسز میں ضمانت پر ہیں،وکیل فیصل ملک کاکہناتھا کہ ملزم کو کسی اور کیس میں سزا ہوئی ہو تو اسے باقی کیسز میں عدالت لایا جاتا ہے،عدالت سے استدعا کی بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کیا جائے،عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ 9مئی کے کیسز بھی تیزی سے چلائے جائیں،افسوس کی بات ہے ہمیں اپنے موککل بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جارہا،دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ وکیل کو کلائنٹ سے ملنے سے روکا جائے،ملاقاتوں سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے،ان کاکہناتھا کہ جیل حکام بار بار توہین عدالت کررہے ہیں، بانی سے ملنے نہیں دیا جارہا،استدعا کی ہے ہمیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے یا انہیں عدالت لایا جائے۔
ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کی کوشش کریں: شیخ رشید
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میں بانی پی ٹی ا ئی وکیل فیصل ملک عدالت لایا استدعا کی عدالت سے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ