Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:44:29 GMT

پاکستان، چین میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

پاکستان، چین میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان اور چین نے باہمی مفاد پر مبنی تذویراتی تعاون کے تحت نئے اہداف کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تذویراتی و سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلوں اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے پیر کو چین۔پاکستان وزرائے خارجہ کے ساتویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کے وزیرِ خارجہ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن، وانگ یی کی دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے 3 تا 5 جنوری 2026ءچین کا دورہ کیا۔ 4 جنوری 2026ءکو بیجنگ میں وانگ یی اور محمد اسحاق ڈار نے چین۔ پاکستان وزرائے خارجہ کے ساتویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈائیلاگ کے دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات اور وسیع شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جن میں سٹریٹجک و سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلے شامل ہیں۔ باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقین نے سٹریٹجک روابط کے فروغ، سٹریٹجک باہمی اعتماد کو گہرا کرنے، مشترکہ مفادات کے تحفظ، دونوں ممالک کی اقتصادی و سماجی ترقی کے فروغ اور خطے سمیت دنیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے 2026ءمیں چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی یاد میں تقریبات کے آغاز کا اعلان کیا، جو چین۔پاکستان دوستی کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے شعبوں کے فروغ کا ذریعہ بنیں گی تاکہ یہ دوستی نسل در نسل مستحکم ہوتی رہے۔ دونوں فریقین نے اس امر کا اعادہ کیا کہ چین اور پاکستان ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور ان کی دوستی فولاد کی طرح مضبوط ہے۔ چین۔پاکستان تعلقات کی مضبوط اور مستحکم ترقی علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے غیرمعمولی سٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں فریقین نے اعلیٰ سطحی روابط کو دوطرفہ تعلقات کی نمایاں خصوصیت قرار دیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے قائدین کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد، دونوں حکومتوں کے دستخط شدہ ایکشن پلان (29۔2025ئ) کے نفاذ اور چین۔پاکستان مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر میں صفِ اوّل پر رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا اور 14ویں پانچ سالہ منصوبے کی کامیاب تکمیل اور آئندہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے پر چین کو مبارکباد دی۔ پاکستان نے چین کے عوام دوست ترقیاتی فلسفے کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ جدیدیت کی جانب چینی راستہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے خود مختار ترقی کے حصول کا ایک نیا اور عملی ماڈل فراہم کرتا ہے۔ پاکستان نے ون چائنا پالیسی سے اپنے پختہ وابستگی کی توثیق کی اور اس امر کا اعادہ کیا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پاکستان چین کی قومی وحدت کے حصول کی ہر کوشش کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ اور”تائیوان کی آزادی“، ”دو چین“ یا ”ایک چین، ایک تائیوان“کے کسی بھی تصور کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان نے سنکیانگ، زیزانگ (تبت)، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق امور پر چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چین نے پاکستان کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی قومی حالات سے ہم آہنگ ترقی، معاشی خوشحالی، دہشت گردی کے خلاف مضبوط جد وجہد اور بین الاقوامی و علاقائی امور میں بڑے کردار کی حمایت کی۔ چین نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جامع اقدامات اور پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو سراہا، اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی عظیم قربانیوںکا اعتراف کیا۔ دونوں فریقین نے دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی و سلامتی کے شعبوں میں ہمہ جہت تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تاکہ چین۔پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون محفوظ اور ہموار انداز میں آگے بڑھے۔ طرفین نے دہشت گردی کے خلاف د ہرے معیار کی مخالفت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون مضبوط بنائے۔ فریقین نے ترقیاتی منصوبوں اور ترجیحات کو مزید ہم آہنگ کرنے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نمایاں منصوبے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اپ گریڈڈ ورژن 2.

0 کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ صنعت، زراعت اور معدنیات کے تین کلیدی شعبوں پر توجہ، گوادر بندرگاہ کی تعمیر و فعالیت، قراقرم ہائی وے کی روانی اور پاکستان کی پائیدار ترقی کی صلاحیت میں اضافے پر اتفاق ہوا۔ تجارت و سرمایہ کاری، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور عوامی و ثقافتی تبادلوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ خنجراب پاس سے سال بھر مکمل رسائی کو دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔ فریقین نے مالی و بینکاری شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی مالیاتی فورمز پر باہمی حمایت بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے اپنے مالی و مالیاتی شعبوں کے لیے چین کی معاونت کو سراہا۔ دونوں فریقین نے خلائی تعاون میں وسعت اور پاکستانی خلا بازوں کی جلد چینی خلائی سٹیشن میں شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا، اور پرامن و باہمی مفاد پر مبنی خلائی تحقیق کے ذریعے معاشی و سماجی ترقی کے فروغ پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے دوسری جنگِ عظیم میں فتح کے نتائج کے تحفظ، اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کی مخالفت اور فاشزم و عسکریت پسندی کی واپسی کے خلاف موقف کا اعادہ کیا۔ قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ اور بین الاقوامی قانون کے دیگر اصولوں پر مبنی بعد از جنگ عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر مبنی جنوبی ایشیا کے علاقائی نظام کی اہمیت پر زور دیا، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور خطے میں امن و استحکام کے تحفظ اور تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات و مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی فریق نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر چین کو بریفنگ دی۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تاریخ کا ورثہ ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، اقوامِ متحدہ کے منشور اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ دونوں فریقین نے مساوات اور باہمی مفاد کے اصول کے تحت سرحد پار آبی وسائل کے تعاون پر آمادگی ظاہر کی اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل کی اہمیت پر زور دیا، نیز علاقائی و عالمی سلامتی و استحکام کی اہمیت کو دہرایا۔ دونوں فریقین نے چین۔افغانستان۔پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ ڈائیلاگ اور چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان تعاون کے فریم ورک سے مزید نتائج حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے عالمی ترقی، عالمی سلامتی، عالمی تہذیب اور عالمی حکمرانی کے اقدامات کے تحت تعاون بڑھانے، عالمی حکمرانی کے نظام کو زیادہ منصفانہ و مساوی بنانے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ اقوامِ متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمیت کثیرالجہتی فورمز میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں جانب نے کثیرالجہتی، آزاد تجارت، اور بالادستی، دھونس، ”چھوٹے گروہوں“ اور بلاک سیاست کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقین نے افغانستان سے متعلق قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے، افغان حکومت کو جامع سیاسی ڈھانچہ، معتدل پالیسیاں، ترقی پر توجہ اور ہمسائیگی کے اصول اپنانے کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا اور افغانستان کے استحکام و عالمی برادری میں انضمام میں تعمیری کردار کی حمایت کی۔ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے غزہ میں غیرمشروط، جامع اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کوششوں پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ پاکستان سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چینی وزیرِ خارجہ، وانگ یی اور چینی حکومت کا پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقین نے آئندہ سال اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے اگلے دور کے انعقاد پر اتفاق کیا، جس کی تاریخیں باہمی مشاورت سے طے کی جائیں گی۔ مذاکرات کے بعد پاکستان روانگی سے پہلے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پیر کو بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے میں چین کی بین الاقوامی ترقیاتی تعاون ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے چیئرمین چن شیاوڈونگ سے ملاقات کی۔ وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے کا دورہ کیا۔ پیر کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے سفارت خانے کے تزئین و آرائش شدہ عوامی مقامات کا معائنہ کیا، جہاں روایتی اور جدید طرزِ تعمیر کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے چائنا من میٹلز کارپوریشن (MCC) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت نائب صدر شو جی چِنگ کر رہے تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یمن سمیت خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پاکستان سفارتکاری کے محاذ پر متحرک ہو گیا، چین میں موجودگی کے دوران اسحاق ڈار نے 6 وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ اسحاق ڈار، سعودی عرب اور اماراتی وزیر خارجہ سے مسلسل رابطے میں ہے، انہوں نے ترک، مصر اور ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کے ایڈوائزر فارن افیئرز سے رابطہ کیا۔ وینزویلا کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔ امریکی نمائندہ نے کہا کہ 3 جنوری کو امریکہ نے وینزویلا میں کامیاب فوجی کارروائی کی۔ وینزویلا کی صورتحال کئی سال سے خطے کےلئے خطرہ تھی۔ ہم نے وینزویلا میں شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا جو پورا نہیں ہوا۔ وینزویلا کو دہائیوں سے داخلی عوام استحکام اور اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔ وینزویلا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر تھیں۔ دریں اثناءصدر کولمبیا گسٹاو پیٹرو نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہتھیار اٹھانے کو تیار ہوں، میں نے ہتھیاروں کو ہاتھ نہ لگانے کی قسم کھائی تھی۔ وطن کے لئے دوبارہ ہتھیار اٹھاوں گا۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: حمایت کا اعادہ کیا دہشت گردی کے خلاف محمد اسحاق ڈار نے اور بین الاقوامی پر اتفاق کیا اور علاقائی چین پاکستان اور پاکستان پاکستان نے پاکستان کی پر زور دیا میں تعاون کی مخالفت اور عوامی خارجہ کے تعاون کے کی حمایت کی تعمیر کے مطابق اور چین کے تحفظ میں چین کے فروغ ترقی کے چین نے نے چین کے لیے کے تحت چین کی

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان