وینزویلا آپریشن: حمایت بھی، خوف بھی، امریکی عوام دو رخی کیفیت میں
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
رائٹرز/ایپسوس کے ایک سروے کے مطابق، لگ بھگ 30 فیصد امریکیوں نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی حمایت کی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے صدر کا تختہ الٹ دیا گیا، جبکہ 72 فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ امریکا جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں حد سے زیادہ مداخلت کر بیٹھے گا۔
اس دو روزہ سروے کے نتائج کے مطابق 65 فیصد ریپبلکنز نے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی اس فوجی کارروائی کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹس میں یہ شرح صرف 11 فیصد اور آزاد ووٹرز میں 23 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں:
ہفتے کی صبح علی الصبح امریکی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ایک مہلک کارروائی کی، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔
امریکی فوج نے صدر مادورو کو منشیات کی مبینہ اسمگلنگ سے متعلق الزامات کے تحت مقدمے کے لیے وفاقی حکام کے حوالے کر دیا۔
It should be 0% of Americans approve of US strike on Venezuela.
'Only 33% of Americans approve of US strike on Venezuela, Reuters/Ipsos poll finds'https://t.co/ZvvNeULmQg pic.twitter.com/PIPgMMHHld
— Christy Franklin (@Alisaisil) January 5, 2026
یہ کارروائی اور اس کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا اب وینزویلا کو چلائے گا، ایک ایسے صدر کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہے جو ماضی میں امریکی قیادت پر بیرونی تنازعات میں الجھنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا تھا کہ اس کی توجہ بنیادی طور پر ملکی معیشت پر مرکوز رہے گی، جو کہ اس سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
مزید پڑھیں:
یہ انتخابات ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری 2 برسوں کے لیے کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گے۔
ریپبلکنز کی ’غلبے‘ پر مبنی پالیسی کی حمایتاتوار اور پیر کو کیے گئے رائٹرز/ایپسوس سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ریپبلکنز کی بڑی تعداد ایک ایسی خارجہ پالیسی کی حامی ہے جس میں ہمسایہ ممالک پر اثر و رسوخ بڑھانا شامل ہو۔
تقریباً 43 فیصد ریپبلکنز نے اس بیان سے اتفاق کیا کہ امریکا کو مغربی نصف کرے میں معاملات پر غلبہ حاصل کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے، جبکہ 19 فیصد نے اس سے اختلاف کیا۔ باقی افراد غیر یقینی کا شکار رہے یا انہوں نے جواب نہیں دیا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکا غیر معینہ مدت تک وینزویلا کو چلائے گا اور وہاں زمینی افواج بھی بھیج سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:
وینزویلا کی تیل کی صنعت میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے انہوں نے اتوار کو کہا کہ امریکا کو اس ملک کے وسیع تیل کے ذخائر تک مکمل رسائی درکار ہے۔
سروے کے مطابق 60 فیصد ریپبلکنز نے وینزویلا میں امریکی فوج تعینات کرنے کی حمایت کی، جبکہ مجموعی طور پر امریکیوں میں یہ شرح 30 فیصد رہی۔ اسی طرح 59 فیصد ریپبلکنز نے وینزویلا کے تیل کے کنوؤں پر امریکی کنٹرول کی حمایت کی۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ وینزویلا کو چلانے کے اپنے وعدے پر کس طرح عملدرآمد کریں گے۔
مزید پڑھیں:
اتوار کو ان کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ واشنگٹن براہِ راست حکومت کرنے کے بجائے وینزویلا کی قیادت کو دباؤ میں رکھ کر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
’اگر وہ درست رویہ اختیار نہیں کریں گے تو ہم دوسرا حملہ کریں گے۔‘
اس کے باوجود سروے میں 65 فیصد ریپبلکنز نے وینزویلا پر امریکی حکمرانی کی حمایت کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں امریکی کارروائی پر عالمی تشویش، پاکستان کا دوٹوک مؤقف
دوسری جانب، امریکی مداخلت کے ممکنہ نتائج پر ریپبلکنز کے درمیان رائے منقسم نظر آئی۔ تقریباً 54 فیصد ریپبلکنز کو خدشہ ہے کہ امریکا وینزویلا میں ضرورت سے زیادہ الجھ جائے گا۔
اتنی ہی تعداد نے مالی اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جبکہ 45 فیصد نے ان خدشات کو مسترد کیا۔ مزید برآں، 64 فیصد ریپبلکنز کو اس بات کا خوف ہے کہ امریکی مداخلت سے فوجی اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ملک بھر سے 1,248 بالغ امریکی شہریوں پر مشتمل اس سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 42 فیصد رہی، جو اکتوبر کے بعد بلند ترین سطح ہے اور دسمبر کے سروے میں موجود 39 فیصد سے زیادہ ہے۔ آن لائن کیے گئے اس سروے میں غلطی کا امکان تقریباً 3 فیصد پوائنٹس تک بتایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا سروے نکولس مادورو وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا سروے نکولس مادورو وینزویلا فیصد ریپبلکنز نے نے وینزویلا کی حمایت کی پر امریکی کہ امریکا کے مطابق سروے کے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ