وینزویلا پر فوجی کارروائی کی امریکا میں وسیع مخالفت: سروے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد خود امریکا کے اندر اس اقدام پر شدید بحث چھڑ گئی ہے اور عوامی رائے بڑی حد تک واشنگٹن کی پالیسی کے خلاف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ سروے نتائج کے مطابق امریکی شہریوں کی واضح اکثریت وینزویلا پر حملے کو درست فیصلہ نہیں سمجھتی، جبکہ ایک بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ یہ کارروائی امریکا کو ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں الجھا سکتی ہے۔
خبر ایجنسی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں سامنے آیا ہے کہ صرف 33 فیصد امریکی شہری وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ 72 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ اس مداخلت کے نتیجے میں امریکا خطے میں حد سے زیادہ گہرائی تک پھنس سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ امریکی عوام بیرونِ ملک فوجی مہمات کے حوالے سے پہلے ہی محتاط رویہ اختیار کر چکے ہیں۔
سیاسی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو رائے مزید واضح ہو جاتی ہے۔ سروے کے مطابق ری پبلکن ووٹرز میں 65 فیصد افراد وینزویلا میں امریکی کارروائی کے حامی ہیں، تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز میں یہ شرح محض 11 فیصد رہی، جبکہ آزاد ووٹرز میں سے صرف 23 فیصد نے اس آپریشن کی حمایت کی۔ یہ فرق امریکی سیاست میں خارجہ پالیسی پر گہری تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔
ادھر وینزویلا کے داخلی سیاسی منظرنامے پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے، جس میں صدر نکولس مادورو کے بعد وینزویلا کی ممکنہ قیادت سے متعلق جائزہ شامل ہے۔ رپورٹ میں حکومت کے وفادار حلقوں سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے نام زیر غور لائے گئے ہیں جو کسی بھی عبوری یا آئندہ انتظام میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ممکنہ ناموں میں وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی رودریگز بھی شامل ہیں، جنہیں ایسے سیاسی کرداروں میں شمار کیا جا رہا ہے جو موجودہ حالات میں ریاستی ڈھانچے کو سنبھالنے اور داخلی استحکام برقرار رکھنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ شخصیات نہ صرف نظامِ حکومت کو چلانے بلکہ ملک کو کسی بڑے انتشار سے بچانے کے لیے نسبتاً مضبوط پوزیشن میں ہوں گی۔
بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی تشویش اور وینزویلا کی قیادت سے متعلق خفیہ رپورٹس اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ واشنگٹن کو نہ صرف بیرونی محاذ پر بلکہ اندرونی سطح پر بھی اپنی پالیسیوں کے نتائج کا سامنا ہے۔ وینزویلا بحران اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ امریکا کے اندر سیاسی اور عوامی مباحث کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘