سنبھل مسجد کے انتظامیہ سے منسلک افراد کے مکانات پر بلڈوزر چلائے گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ابتدائی طور پر مسجد کا ایک جزوی حصہ ہٹا دیا گیا، پھر چار جنوری کو انتظامیہ دوبارہ سامنے آئی، پولیس کی بھاری نفری اور انتظامیہ کی موجودگی میں چار بلڈوزر کیساتھ کارروائی شروع ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے ضلع سنبھل ایک بڑی اور سخت کارروائی میں انتظامیہ نے منگل کے روز اترپردیش کے سنبھل ضلع کے اسمولی تھانہ علاقے میں واقع رایا بزرگ گاؤں میں انہدامی کارروائی انجام دی۔ سنبھل میں اس آپریشن کے دوران چار تھانوں کی پولیس فورس، 50 سے زیادہ کانسٹیبل، 15 اکاؤنٹنٹ، تین قانون نافذ کرنے والے افسران اور سینیئر افسران کو جائے وقوع پر تعینات کیا گیا، جس سے پورا گاؤں چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔
تحصیلدار دھیریندر پرتاپ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ مسجد کے انتظامیہ کے تین بھائیوں بابو، اسرار اور ابرار نے پلاٹ نمبر 682 (0.
انتظامیہ کے مطابق اسی گاؤں میں تالاب سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر نئی پرتی کی 552 مربع میٹر اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر کے گاؤسلبارہ مسجد بنائی گئی تھی۔ دو اکتوبر 2025ء کو انتظامیہ بلڈوزر لے کر پہنچی تو مسجد کمیٹی نے ایک ہفتے کا وقت مانگا۔ اس دوران یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچا، جہاں سماعت کے بعد انتظامیہ کو قواعد کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ متولی منظر حسین کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر مسجد کا ایک جزوی حصہ ہٹا دیا گیا، پھر چار جنوری کو انتظامیہ دوبارہ سامنے آئی۔ پولیس کی بھاری نفری اور انتظامیہ کی موجودگی میں چار بلڈوزر کے ساتھ کارروائی شروع ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق منگل کو گاؤسلبارہ مسجد کے مرکزی حصے کو منہدم کر دی جائے گی۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ یہ اراضی سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔