سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، پاکستان میں 21 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں 21 ہزار سے زائد نئی کمپنیوں نے خود کو رجسٹرڈ کروایا ہے۔
ایس ای سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ جولائی تا دسمبر 2025ء کے دورانیے میں ایس ای سی پی کے تحت 21 ہزار 668 نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا۔
اتنی بڑی تعداد میں کمپنیوں کی رجسٹریشن کا مطلب سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری ہے جبکہ مجموعی طور پر نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اعلامیے کے مطابق نئی کمپنیوں کی جانب سے 30 ارب 70 کروڑ روپے کا ادا شدہ سرمایہ جمع ہوگیا جبکہ ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 79 ہزار 724 تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیںاسٹاک ایکس چینج میں میوچل فنڈز کی سرمایہ کاری 10سال کی بلند ترین سطح پر
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا؛ سرمایہ کاروں کی تعداد بلند ترین سطح پر
ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے موثر پلیٹ فارم بن گیا
ایس ای سی پی نے بتایا کہ چھ ماہ کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ای کامرس شعبہ سب سے آگے رہا جس سے متعلقہ 4 ہزار 277 نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا۔
اس کے علاوہ ٹریڈنگ، سروسز اور ریئل اسٹیٹ سیکٹرز میں بھی نمایاں کارپوریٹ گروتھ ہوئی جبکہ 524 نئی کمپنیوں میں غیر ملکی کمپنیاں بھی رجسٹرڈ ہوئی جن کی سرمایہ کاری کا حجم 1 ارب 26 کروڑ روپے ہے۔
اعلامیے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں چین 71 فیصد حصہ کے ساتھ سرفہرست رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں نئی کمپنیوں کمپنیوں کی ایس ای سی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔