data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ملک میں آئینی انحراف، جمہوری اقدار کی پامالی، عوامی مینڈیٹ کی توہین اور سیاسی انتقام ناقابلِ قبول ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ہر حال میں آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات اور عوامی حقوق کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ 8 فروری کو پاکستان بھر میں پْرامن احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے منعقد کیے جائیں گے تاکہ حکمرانوں کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ قوم آئین سے انحراف برداشت نہیں کرے گی۔ان خیالات کا اظہار اپوزیشن لیڈرسینیٹ چیئرمین ایم ڈبلیو ایم سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صوبائی دفتر وحدت ہاوس کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علیم عادل شیخ اور زین شاہ نے وفد کے ہمراہ سے ملاقات کی۔سنیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ مظلوم عوام کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری جدوجہد میں باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے موجودہ حکمران نے ملکی آئین کو اپنے مقاصد کی خاطر بہت نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس عمل میں وہ جماعت بھی شامل ہے جس کے بانی کا کردار اس ملک کی آئین سازی میں اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی و جمہوری حقوق کے تحفظ کیلیے 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے اس احتجاج سے اظہار یکجہتی بیرون ملک مقیم پاکستان بھی کریں گے۔ علیم عادل شیخ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوامی امنگوں کے مطابق جدوجہد کو مزیدمنظم کیا جائے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی وائس چیئرمین سید زین شاہ نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور شفاف انتخابات ہی ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔آئین بحالی کی یہ تحریک ہر فورم پر عوام کی آواز بن کر جدوجہد رکھے گی۔رہنماوں نے عوام، وکلا، طلبہ، سول سوسائٹی اور تمام جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ 8 فروری کے احتجاج میں بھرپور شرکت کر کے آئین کے تحفظ کی اس جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین پاکستان

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال