پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کھیلا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ آج کھیلا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کا یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل آخری اسائنمنٹ ہے۔
اس سیریز کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے قومی ٹیم کے حتمی 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا جائے گا۔
تین میچز کی سیریز کے بقیہ دو میچز 9 اور 11 جنوری کو کھیلے جائیں گے۔
سیریز کے تمام میچز دمبولا میں کھیلے جائیں گے جو پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوں گے۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا آغاز 7 فروری کو پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان میچ سے ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔