شہزاد اقبال اوگرا میں ممبر گیس مقرر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے شہزاد اقبال کو اوگرا میں ممبرگیس مقرر کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق ترجمان اوگرا کے مطابق شہزاد اقبال پاکستان کے آئل اینڈ گیس سیکٹر میں 25 سالہ طویل ریگولیٹری اور انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔
نئی تقرری سے قبل وہ اوگرا میں سینئر قیادتی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں جہاں انہوں نے گیس کی ترسیل و تقسیم، ٹیرف کے تعین، ان اکائونٹڈ فار گیس (یو ایف جی)، صارفین کے تحفظ اور گیس یوٹیلیٹیز سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی جیسے اہم امور کی نگرانی کی۔
ناقص پراسکیوشن اور کمزور تفتیش کے باعث ملزمان بری ہونے لگے
ترجمان نے مزید کہا کہ ان کی تقرری سے توقع ہے کہ اوگرا کی گیس سیکٹر میں ریگولیٹری نگرانی مزید موثر ہوگی خصوصاً ایسے وقت میں جب شعبہ رسد کے انتظام، انفراسٹرکچر کی کارکردگی، قیمتوں میں شفافیت اور صارفین کے اعتماد سے متعلق چیلنجز سے دوچار ہے۔
اوگرا عوامی مفاد میں پاکستان کے آئل اینڈ گیس سیکٹر کی شفاف، منصفانہ اور موثر ریگولیشن کے عزم پر قائم ہے اور شہزاد اقبال کی پیشہ ورانہ خدمات سے ان مقاصد کے حصول میں مثبت کردار کی توقع رکھتی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شہزاد اقبال
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔