آئی ٹی سی این ایشیا 2026ء: پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی سمت تاریخی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان تیزی سے خطے میں جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کا ایک مضبوط اور ابھرتا ہوا مرکز بن کر سامنے آ رہا ہے، جہاں جدت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جو 17 سے 19 جنوری تک لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس بین الاقوامی ایونٹ کو پاکستان کے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پہلی مرتبہ ملک کا مکمل آئی ٹی، ٹیک، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم ایک ہی عالمی پلیٹ فارم پر یکجا ہوگا۔
3 روزہ نمائش میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، پالیسی ساز، ملکی و غیر ملکی صنعتکار، عالمی ماہرین، سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی لیڈرز بھرپور شرکت کریں گے۔ ایونٹ میں 850 سے زائد اسٹالز لگائے جائیں گے جب کہ دنیا بھر سے 3 ہزار سے زائد معروف برانڈز اور 350 سے زائد بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔
آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کا انعقاد ای کامرس گیٹ وے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے زیر اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل کی بصیرت افروز اور فیصلہ کن معاونت شامل ہے۔ ایس آئی ایف سی کے کردار کو پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، سرمایہ کاری کے ماحول کو سازگار بنانے اور ڈیجیٹل معیشت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ایس آئی ایف سی کی پالیسی سپورٹ اور سہولت کاری نے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک قابلِ فخر مقام دلانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
نمائش کے دوران عالمی چیف انفارمیشن سیکورٹی آفیسر سمٹ، سائبر تھریٹ انٹیلیجنس فورم، اے آئی لیڈرشپ سیشنز، ڈیجیٹل اثاثہ جات اور فِن ٹیک فارورڈ فورمز کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جہاں جدید ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور مالیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز، تربیتی ورکشاپس اور رہنمائی سیشنز بھی رکھے جائیں گے تاکہ نئی نسل کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل معیشت رہا ہے آئی ٹی
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش