data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان تیزی سے خطے میں جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کا ایک مضبوط اور ابھرتا ہوا مرکز بن کر سامنے آ رہا ہے، جہاں جدت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جو 17 سے 19 جنوری تک لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس بین الاقوامی ایونٹ کو پاکستان کے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پہلی مرتبہ ملک کا مکمل آئی ٹی، ٹیک، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم ایک ہی عالمی پلیٹ فارم پر یکجا ہوگا۔

3 روزہ نمائش میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، پالیسی ساز، ملکی و غیر ملکی صنعتکار، عالمی ماہرین، سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی لیڈرز بھرپور شرکت کریں گے۔ ایونٹ میں 850 سے زائد اسٹالز لگائے جائیں گے جب کہ دنیا بھر سے 3 ہزار سے زائد معروف برانڈز اور 350 سے زائد بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔

آئی ٹی سی این ایشیا 2026 کا انعقاد ای کامرس گیٹ وے پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے زیر اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل کی بصیرت افروز اور فیصلہ کن معاونت شامل ہے۔ ایس آئی ایف سی کے کردار کو پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، سرمایہ کاری کے ماحول کو سازگار بنانے اور ڈیجیٹل معیشت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ایس آئی ایف سی کی پالیسی سپورٹ اور سہولت کاری نے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک قابلِ فخر مقام دلانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔

نمائش کے دوران عالمی چیف انفارمیشن سیکورٹی آفیسر سمٹ، سائبر تھریٹ انٹیلیجنس فورم، اے آئی لیڈرشپ سیشنز، ڈیجیٹل اثاثہ جات اور فِن ٹیک فارورڈ فورمز کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جہاں جدید ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور مالیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز، تربیتی ورکشاپس اور رہنمائی سیشنز بھی رکھے جائیں گے تاکہ نئی نسل کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل معیشت رہا ہے آئی ٹی

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان