سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے تنخواہوں اور ایڈجسٹمنٹ کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے تنخواہوں اور ایڈجسٹمنٹ کا جائزہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ لاجز، اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر ناصر محمود نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد، سینیٹر خالدہ عطیب اور سینیٹر ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔
کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں (کوئٹہ 21 نومبر 2025 اور لاہور 18 دسمبر 2025) میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی گئی۔
اجلاس کے دوران پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے مینٹیننس اسٹاف کے ملازمین کو یکم جولائی 2025 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان ملازمین کو فوری طور پر بقایاجات کی ادائیگی اور انہیں اسی تاریخ سے ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی، جس تاریخ سے بلوچستان میں دیگر پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کیے گئے ملازمین کو بلا تعطل تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں، جن میں 1,493 ملازمین سی ڈی اے، 970 اسٹیٹ آفس، 95 وزارت دفاع، ایک وفاقی شرعی عدالت، 60 وزارت خارجہ، 116 ایف بی آر، 35 نیب اور 90 کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 2,860 ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے مل رہی ہیں، جبکہ 173 ملازمین کے لیے موجودہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری زیر غور ہے اور 83 آئی بی ملازمین کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق کر کے واضح اور مستند رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔
اجلاس میں سینٹرل سول ڈویژن پاک پی ڈبلیو ڈی کے 15 درجے چہارم کے ملازمین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جنہیں اے جی پی آر اور ٹی آفس لاہور منتقل تو کیا گیا مگر گزشتہ چھ ماہ سے نہ تو ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حل اور تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایت کر دی ۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے نے کمیٹی کو پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ، تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں کانسٹینشیا اسٹیٹ مری کے حصول، ترقی اور استعمال سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مری نے زمین کی میوٹیشن کے لیے ڈپٹی کمشنر کو باضابطہ درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔ چونکہ اسٹیٹ آفس کو زمین کی صرف نگرانی (واچ اینڈ وارڈ) کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس لیے معاملہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ میوٹیشن وفاقی حکومت یا وزارت کے نام کی جائے۔
مزید برآں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے سول کورٹ راولپنڈی کو خط لکھ کر زیر التواء مقدمات کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بروقت فیصلوں، شفافیت اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو جلد از جلد پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا چترال پروازوں کی بندش پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا سخت اظہارِ تشویش فتح جنگ: زائد المیعاد ادویات اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد دکانیں سیل، بھاری جرمانے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کی اسکرونٹی کا مرحلہ مکمل عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی چکوال میں مسافر بس کھائی میں جاگری، 5 افراد جاں بحقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ملازمین کے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔