مردہ ہاتھی سوا لاکھ کا، جو بائیڈن کی سالانہ 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر پنشن
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
واشنگٹن (ویب ڈیسک) جوبائیڈن کو ملنے والی رقم سابق صدر باراک اوباما کی ریٹائرمنٹ آمدن سے بھی تقریباً دوگنی بتائی جا رہی ہے
امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کو صدارت ختم ہونے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ ریٹائرمنٹ پنشن مل رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، 83 سالہ جو بائیڈن کو سالانہ تقریباً 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر پنشن دی جا رہی ہے، جو ان کی بطور صدر سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔
نیشنل ٹیکس پیئر یونین فاؤنڈیشن کے نائب صدر ڈیمین بریڈی کے تجزیے کے مطابق یہ رقم امریکی تاریخ میں کسی بھی سابق صدر کو ملنے والی سب سے بڑی پنشن ہے۔ یہ سابق صدر باراک اوباما کی ریٹائرمنٹ آمدن سے بھی تقریباً دوگنی بتائی جا رہی ہے۔
جو بائیڈن کی یہ زیادہ پنشن ان کے طویل سیاسی کیریئر کا نتیجہ ہے۔ وہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک امریکی سینیٹ کے رکن رہے، اس کے بعد نائب صدر اور پھر صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ اس طویل سرکاری خدمت کے باعث انہیں مختلف سرکاری پنشن اسکیموں سے فائدہ حاصل ہوا۔
تفصیلات کے مطابق، سابق صدر کی حیثیت سے بائیڈن کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملتے ہیں، جبکہ کانگریس کی سول ریٹائرمنٹ اسکیم کے تحت بھی انہیں اضافی رقم دی جاتی ہے، جو مجموعی طور پر 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچتی ہے۔
پنشن کے علاوہ، امریکی قانون کے تحت سابق صدور کو دفاتر، عملہ اور دیگر سرکاری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
2026 کے بجٹ میں جو بائیڈن کے لیے 15 لاکھ ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن میں دفتر کے کرائے کی مد میں سب سے زیادہ رقم شامل ہے۔ ان مراعات پر کانگریس میں تنقید بھی کی جا رہی ہے، تاہم تاحال ان میں کمی سے متعلق کوئی نیا قانون منظور نہیں ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جو بائیڈن بائیڈن کو ہزار ڈالر جا رہی ہے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔