پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع
حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسپیکر سردار ایاز صادق کو گرین سگنل دے دیا ہے جب کہ حکومتی وفد اسپیکر کی درخواست پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے۔ غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب اسپیکر آفس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کے لیے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا۔اسپیکر آفس ذرائع کے مطابق سردار ایاز صادق نے ابھی تک پارلیمانی کمیٹی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اپوزیشن رضا مند ہوئی تو فوری طور پر اسپیکر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔اس حوالے سے پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کی پیشکش کے باوجود ابھی تک اپوزیشن نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ اسپیکر نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی ہوئی ہے ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے اسپیکر سے آخری ملاقات محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے مذاکرات کے ابھی تک کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔