دہشتگردوں کو دہشتگرد کہنے سے انکار کرنے والے کیا کارروائی کریں گے؟ عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ جس صوبے میں دہشتگردی کی ایک منظم اور خطرناک لہر جاری ہو، جہاں پاکستان فوج کے جوان، پولیس کے افسران اور بے گناہ شہری روزانہ قربانیاں دے رہے ہوں، وہاں دہشتگردوں کو دہشتگرد کہنے سے انکار بذاتِ خود ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ جو عناصر نہ صرف دہشتگردوں کو دہشتگرد تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں بلکہ ان کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے سے بھی کتراتے ہیں، وہ یہ واضح کریں کہ آخر وہ کس کے خلاف اور کس کے حق میں کھڑے ہیں؟ جو لوگ پاکستان کے محافظوں کے قاتلوں پر خاموشی اختیار کریں، ان سے دہشتگردی کے خلاف مؤثر ایکشن کی توقع رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ ظلم کرنے والا ہی نہیں بلکہ ظلم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم کہلاتا ہے اور تاریخ نے ہمیشہ ایسے کرداروں کو بے نقاب کیا ہے جو دہشتگردی کے خلاف دوغلا مؤقف اپناتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت کسی ابہام، مصلحت یا سیاسی مفاد نہیں بلکہ واضح، جرات مندانہ اور غیر مبہم مؤقف کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔