بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس،سکول سے باہر بچوں کیلئے اقدامات کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی کی صدارت میں 38 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم نے سکول سے باہر بچوں کے لیے قومی تعلیمی ہنگامی اقدامات کی حتمی منظوری دے دی اجلاس میں وزیر مملکت تعلیم وجیہہ قمر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب بلوچستان کی راحیلہ حمید درانی سندھ کے محمد اسماعیل راہو ویڈیو لنک کے ذریعے پنجاب کے رانا اقبال سکندر اور خیبر پی کے کے ارشد ایوب خان سمیت تمام صوبائی وزرائے تعلیم نے شرکت کی۔ کانفرنس میں خصوصی وفاقی ’’چیلنج فنڈ‘‘کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس کا مقصد سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں واپس لانا ہے، یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام انتظامی اکائیوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر اس تعلیمی ہنگامی حالت پر متفقہ طور پر عملدرآمد سکول سے باہر بچوں کی واپسی اور بین الاقوامی معیار کے امتحانی و نصابی اصلاحات کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکول سے باہر بچوں وزرائے تعلیم
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔