تحریک تحفظ آئین پاکستان کا احتجاج، راستے میں رکاوٹ ڈالنے والا خود ذمہ دار ہوگا، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ذرائع نے بتایا کہ سینئیر نائب صدر علامہ راجا ناصر عباس، نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر اور سیکریٹری جنرل اسد قیصر بھی دورہ میں شرکت کریں گے اور لاہور میں سیاسی اور سماجی ملاقاتیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے لاہور میں زمان پارک سے سیاسی سرگرمیوں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے خبردار کیا ہے کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور جو کوئی بھی راستے میں آئے گا وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت تین روزہ دورے پر کل لاہور روانہ ہوگی اور اس دوران اسٹریٹ موبلائیزیشن کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ سینئیر نائب صدر علامہ راجا ناصر عباس، نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر اور سیکریٹری جنرل اسد قیصر بھی دورہ میں شرکت کریں گے اور لاہور میں سیاسی اور سماجی ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کی قیادت محمود اچکزئی اور اسد قیصر کل شام کو لاہور پہنچیں گے اور زمان پاک لاہور میں ملاقاتیں کریں گے۔
پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر جمعرات کو اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ روانہ ہوں گے، اسلام آباد سے لاہور تک راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جائے گا، پمفلٹ تقسیم کیے جائیں گے اور خطاب بھی کیے جائیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اظہار یک جہتی کے لیے لاہور آ رہی ہے، محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر زمان پارک لاہور سے سیاسی سفر دوبارہ شروع کریں گے جہاں سے بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فسطائی ریاست عدالت کے احکامات کے باوجود ملاقات نہیں ہونے دے رہی ہے، جیل کے اندر ایک آزاد شخص باہر سب قیدی بنے ہوئے ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا مقصد پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے عوام کو متحد کرنا ہے، جمہور کی آواز حقیقی آزادی آئین کی بالادستی اور عوام کی حاکمیت کے لیے ہے۔ رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی راستے میں رکاوٹ ڈالے گا وہ خود ذمہ دار ہوگا کیونکہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر آئینی اور پرامن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان ذرائع نے بتایا کہ راستے میں لاہور میں پی ٹی آئی کریں گے گے اور
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔