چین کی جانب سے وینزویلا کے تیل کی جگہ ایرانی تیل کی خریداری کو ترجیح
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں چین کو وینزویلا سے تیل کی فراہمی میں کمی آئے گی اور یہ آزاد ریفائنریوں کے لیے تیل کے ایک اہم ذریعے کو محدود کر دے گا۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ کے طور پر چین، روس، ایران اور وینزویلا کے تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کیوجہ سے تیل کی فراہمی رکنے کے بعد چین ایرانی بھاری خام تیل کی تلاش میں ہے۔ آئندہ مہینوں میں چین کی آزاد (نجی) ریفائنریاں، امریکہ کی جانب سے روکے گئے وینزویلا کے تیل کے کارگو کی جگہ، ایران سمیت دیگر ذرائع سے بھاری خام تیل کی طرف رجوع کریں گی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کاراکاس اور واشنگٹن کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت وینزویلا زیادہ سے زیادہ دو ارب ڈالر مالیت کا خام تیل امریکہ کو برآمد کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں چین کو وینزویلا سے تیل کی فراہمی میں کمی آئے گی اور یہ آزاد ریفائنریوں کے لیے تیل کے ایک اہم ذریعے کو محدود کر دے گا۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ کے طور پر چین، روس، ایران اور وینزویلا کے تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، ایشیا میں جہازوں پر موجود وینزویلا کا تیل اب بھی چین کی تقریباً 75 دن کی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم وہ چینی ریفائنریاں جو وینزویلا کے تیل پر انحصار کرتی ہیں، غالباً مارچ اور اپریل کے مہینوں میں روس اور ایران کی سپلائی کی طرف رخ کریں گی، چین کینیڈا، برازیل، عراق اور کولمبیا سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، خریداروں نے تاحال متبادل ذرائع کی تلاش سنجیدگی سے شروع نہیں کی، جبکہ ایرانی بھاری خام تیل ایک مناسب اور کم لاگت متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کے تیل خام تیل تیل کی چین کی
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔