وادی تیراہ؛ ٹرک کھائی میں گرنے سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے 3افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پشاور:
وادی تیراہ کےعلاقے منگل باغ کنڈاو میں عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندان کو لے کر جانے والا ٹرک کھائی میں گر گیا جس کے باعث 3 افراد موقع پر جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق ٹرک کھائی میں گرنے سے دو افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیںمردان روڈ پر خوفناک ٹریفک حادثہ، شدید دھند کے باعث ٹرک اور کوسٹر میں تصادم
نقل مکانی کرنے والے خاندان کے لوگ علاقہ میدان سے پشاور منتقل ہو رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر علاقے سے نقل مکانی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نقل مکانی
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔