امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ریاست منی سوٹا میں چھاپے کے دوران خاتون کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا ہے، ہلاک خاتون کی شناخت سینتیس برس کی رینی نکول گُڈ کے نام سے کی گئی ہے۔

واقعہ رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں غیرقانونی امیگرینٹس کیخلاف آپریشن کی مخالفت میں بڑے پیمانےپر احتجاج کیا جارہا تھا۔

واقعے کی منظر عام پر آئی ویڈیو کے مطاق حکام نے ایک گاڑی کو روکا، اہلکار اسکی جانب بڑھتے ہیں، اس دوران گاڑی تھوڑا پیچھے ہوتی ہے اور پھر تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے، اچانک سامنے موجود ایک اہلکار گولی چلا دیتا ہے، فائرنگ کے کچھ ہی لمحے بعد خاتون دم توڑ گئی۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق آئس حکام نے خاتون ڈرائیور سے کہا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے، وہ گاڑی موڑ رہی تھی، ایک اہلکار سامنے موجود تھا جس نے تین سے چار گولیاں چلائیں جو ونڈ اسکرین توڑتی ہوئی خاتون کے سر میں لگیں۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے شعبے نے دعویٰ کیا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے گاڑی سے اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی ترجمان ٹیریشیا مک لا لین نے واقعہ کو ڈومیسٹک دہشتگردی سے تعبیر کیا، ان کا کہنا ہےکہ مینیا پلیس کے جنوبی علاقے میں اہلکار نے اپنی ساتھی اہلکاروں اور عوام کی جان کو خطرہ محسوس ہونے پر دفاعی انداز سے گولی چلائی جس میں خاتون ماری گئی۔

مینیا پلیس شہر کے میئر جیکب فریے کا کہنا ہے کہ آئس افسر نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی جان لے لی، امیگریشن حکام شہر میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔

میئر جیکب فریے نے کہا کہ امیگریشن حکام خاندانوں کو تقسیم کررہے ہیں اور ہماری سڑکوں پر شہریوں کا قتل کیا جارہا ہے۔

گورنر ٹم والز نے کہا کہ وہ لوگوں کے غم و غصے سے آگاہ ہیں، انہوں نے مظاہرہ کرنیوالے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، انہوں نے کہا کہ صورتحال میں نیشنل گارڈ کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

ری پبلکن کے زیر اثر کانگریس نے آئس کیلئے پچھتر ارب ڈالر کا بجٹ آئندہ چار برسوں کیلئے پچھلے برس منظور کیا تھا جو کئی ملکوں کی افواج کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔

صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد فائرنگ کے ایسے واقعات میں چار افراد کی جان لی جاچکی ہے۔

ٹرمپ نے شواہد پیش کیے بغیر دعویٰ کیا کہ خاتون مظاہرہ کرنیوالی پیشہ ور تھی اور واقعہ کے زمہ دار بائیں بازو کے انتہاپسند ہیں۔

مینیا پلیس کی رکن کانگریس الہان عمر نے کہا کہ ٹرمپ جھوٹ بولتےہیں، خاتون نے اہلکار کو روندنے کی کوشش نہیں اور نہ ہی کوئی اہلکار بظاہر زخمی ہوا ہے۔

الہان عمر نے واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شئیر کردی اور ساتھ ہی لکھا کہ آئس ہمارے شہر سے نکلو۔

واضح رہے کہ منی سوٹا کے شہروں مینیاپلیس اور سینٹ پال میں ہوم لینڈ سیکیورٹی شعبے کی جانب سے غیرقانونی امیگرینٹس کیخلاف آپریشن کیا جارہا ہے جس میں خاص طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، جس علاقے میں خاتون کو گولی ماری گئی وہ اس مقام سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے جہاں سن دوہزار بیس میں جارج فلائیڈ نامی شخص کو اہلکاروں نے قتل کردیا تھا اور اس کے بعد امریکا بھر میں پرتشدد مظاہرے پھیل گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔

Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN

— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026

زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے

ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار