ملازمت پیشہ خاتون کاشوہر کےلیےکھاناپکانالازم نہیں،انڈین ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد: بھارت کی تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر شوہر اور بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہوں تو بیوی کا شوہر کے لیے کھانا نہ پکانا یا گھریلو کاموں میں کمی کو ذہنی ظلم قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر طلاق دی جا سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ جب شوہر اور بیوی دونوں ملازم ہیں، تو اس کے لیے کھانا نہ پکانا ظلم نہیں سمجھا جاسکتا، اور اس بنیاد پر طلاق نہیں دی جاسکتی۔
جسٹس موسومی بھٹاچاریہ اور جسٹس ناگیش بھیماپاکا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایل بی نگر کے ایک شخص کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
شوہر نے الزام لگایا تھا کہ بیوی کھانا نہیں بناتی اور اس کی والدہ کے ساتھ گھریلو کاموں میں تعاون نہیں کرتی، جو ذہنی اذیت کے زمرے میں آتا ہے۔
شوہر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیوی کے ذریعہ اسے ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
عدالت نے کہا کہ شوہر دوپہر ایک بجے سے رات دس بجے تک کام کرتا ہے جبکہ بیوی صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک ملازمت کرتی ہے، اس لیے ایسے حالات میں بیوی پر کھانا بنانے کا دباو ¿ غیر منصفانہ ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسقاط حمل کے بعد بیوی کا والدین کے گھر جانا بھی ظلم نہیں کہا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ازدواجی زندگی میں چھوٹے موٹے اختلافات طلاق کی بنیاد نہیں بن سکتے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔