پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم، رائٹ مینجمنٹ پولیس کو قانونی حیثیت دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
سٹی42: پولیس آرڈر 2002 میں اہم ترامیم کر دی گئی ہیں، جن کے تحت رائٹ مینجمنٹ پولیس (RMP) کو باقاعدہ طور پر قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ نئی ترامیم کے مطابق پرتشدد ہجوم کا جرم ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا ہے اور ایسے مقدمات کا ٹرائل سیشن کورٹ میں ہوگا۔
پولیس حکام کے مطابق فسادات میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ قانون میں ’’رائٹ زون‘‘ کے نفاذ کی شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت نیک نیتی سے کارروائی کرنے پر پولیس کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
نیتن یاہو کی کرپشن کا کیس سننے والا جج ٹریفک حادثہ میں ہلاک
ترمیم شدہ پولیس آرڈر کے تحت رائٹ مینجمنٹ پولیس کو نہ صرف قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے بلکہ جدید تربیت اور سازوسامان کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آر ایم پی پرتشدد ہجوم سے نمٹنے کے لیے ضلعی پولیس کی استعداد کار کو مؤثر انداز میں مضبوط بنائے گی۔
نئے قانون کے مطابق سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی وصولی فسادات کے منتظمین اور شرکا سے کی جا سکے گی، جبکہ پرتشدد احتجاج کے منتظمین اور شرپسند عناصر کے لیے سخت اور اضافی سزاؤں کا بھی واضح تعین کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان تعلیمی بورڈ میں ایچ ایس ایس سی 2024 کے نتائج میں مبینہ ردوبدل کا انکشاف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
تھانہ نیو ٹاؤن کے ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے کاشف علی نے ہوٹل کا کمرہ بک کرایا تھا، کافی وقت گزرنے پر کمرے سے جواب نہ ملنے پر ہوٹل انتظامیہ نے پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس پہنچنے پر کمرہ کھولا گیا تو اندر سے کاشف علی کی پھندا لگی نعش ملی، پولیس نے فرانزک شواہد اکٹھے کرکے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی۔