تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے عنوان سے اپنی عوامی رابطہ مہم کے تحت اسلام آباد سے لاہور کی جانب 3 روزہ سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق تحریک کا قافلہ جی ٹی روڈ کے راستے لاہور پہنچے گا، جہاں مختلف مقامات پر کارکنان اور حامیوں کی جانب سے استقبال کا اہتمام کیا گیا ہے۔ قیادت کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد اسٹریٹ موبلائزیشن کے ذریعے عوام میں آئین کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں روانہ ہونے والے قافلے میں سینئر نائب صدر علامہ راجا ناصر عباس، نائب صدر مصطفیٰ نواز کھوکھر، سیکرٹری جنرل اسد قیصر، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی سمیت اپوزیشن کے متعدد ارکان شامل ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق قافلہ تقریباً 70 گاڑیوں پر مشتمل ہے اور مختلف شہروں میں مختصر قیام کے بعد لاہور پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق قافلے کا پہلا بڑا استقبال جہلم میں کیا جانا ہے جب کہ راستے میں دیگر شہروں سے بھی کارکنان شامل ہوں گے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھی لاہور جا رہی ہے، جہاں قیادت کی سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں جب کہ زمان پارک میں بھی ملاقاتوں کا شیڈول رکھا گیا ہے۔

روانگی سے قبل قافلے کے شرکا نے اجتماعی دعا میں شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی سے لڑنا، گالیاں دینا یا پتھراؤ کرنا نہیں بلکہ آئین کو بچانا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جو بھی پاکستان میں آئین کی حکمرانی، امن اور جمہوریت چاہتا ہے وہ اس تحریک کا ساتھ دے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں ۔ موجودہ حکومت خود جانتی ہے کہ وہ عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ 8 فروری کی کال دی جا چکی ہے اور تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس کے سلسلے میں لاہور کا دورہ ایک اہم مرحلہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے