بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ حسن محمود خان کا نیول ہیڈکوارٹر زکا دورہ،نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ حسن محمود خان نے نیول ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور پاکستان کےنیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔
مسلح افواج کےشعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور اور خطے کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ نیول چیف نے علاقائی بحری امن واستحکام کیلئے پاک بحریہ کے عزم پر روشنی ڈالی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بنگلہ دیشی ائیرچیف کی ملاقات، دفاع تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
آئی ایس پی آر کے مطابق بنگلادیش فضائیہ کے سربراہ نے پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ معیار کو سراہا اور دونوں افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطح کے دوروں اور مشترکہ تربیتی مشقوں میں اضافہ دونوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی میں مددگار ہوگا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔