پاکستان کے ڈالر ریزرو 45 ماہ کی بلند ترین سطح پر، اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ملکی ڈالر ریزرو 45 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں 18 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ فروری 2022 کے بعد پہلی بار سرکاری ڈالر ذخائر دوبارہ 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی ڈالر ذخائر کا مالی حجم 21 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
مرکزی بینک کے پاس موجود ڈالر ریزرو میں 14 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ بڑھ کر 16 ارب 10 کروڑ ڈالر ہو گئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ڈالر ڈپازٹس میں بھی 4 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 5 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ ذخائر پاکستان کی تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا