Jasarat News:
2026-06-03@02:11:58 GMT

حالات کو بند گلی میں جانے سے بچائیں!

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260109-03-2

 

وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد میں ’’قومی مذاکراتی کمیٹی‘‘ کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، تحریک انصاف کے شیر افضل مروت، سابق وفاقی وزرا وسیم شہزاد، فواد چودھری، محمود مولوی اور بیرسٹر سیف سمیت اہم سیاسی رہنمائوں، دانشوروں اور صحافتی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور نواز لیگ کے صدر، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے لیے سیاسی کارکن رہا، مقدمات ختم کیے جائیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت پر اعتماد بڑھے گا، میڈیا کی سنسر شپ ختم کی جائے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اپوزیشن کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو بڑھائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا محمد علی درانی (سابق وزیر اطلاعات) نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ مسلسل چلتا رہے تو یقینا مثبت نتائج نکلیں گے، اصل ایشو عمران اور حکمرانوں کا ہے، 73 سے اب تک 80 فی صد قرضے حکمران فیملیز نے لیے ہائبرڈ حکومتوں کی تاریخ عبرتناک رہی ہے، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے فائدہ اٹھایا تھا۔ صدر، وزیر اعظم، میاں نواز شریف جیل میں بند لوگوں سے مذاکرات کریں، مفاہمت کے بغیر ملک کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، تکرار مسائل کا حل نہیں۔ لیاقت بلوچ (مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی) نے کہا کہ ملک کو مثبت سرگرمی کی ضرورت ہے، قومی مکالمے کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا شکوک و شبہات میں کوئی ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں، سیاسی استحکام ملک کی ضرورت ہے، سیاسی رہنمائوں، خواتین کی رہائی ہونی چاہیے، سزائوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت کو کم کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن آزاد ہونا چاہیے اس کا مینڈیٹ تسلیم کیا جانا چاہیے، اسی سے پائیدار جمہوریت کا راستہ نکلے گا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔ سابق وزیر داخلہ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہیں، دنیا میں ایک ورلڈ آرڈر جنگل کے قانون کی طرف جا رہا ہے، ایران، یوکرین، اور وینزویلا سب جگہ یہی معیار کار فرما ہے۔ مکالمے کی اہمیت بڑھ گئی، شخصیت پرستی کے بھنور سے باہر آنا ہو گا۔ ہمیں کم سے کم نکات پر نیشنل ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہو گا۔ سابق گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ سیاسی ٹمپریچر کو نیچے لایا جائے، جنگ میں انڈیا کو شکست کے بعد دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے، لیکن پاکستان کے معاشی حالات بہتر نہیں اس کے لیے ایک با مقصد ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں ہمیں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ قوم تقسیم ہے، دو فریق ہیں ان کو کیسے اکٹھا کیا جائے گا کیونکہ کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے، وسیم اختر (ایم کیو ایم) نے کہا کہ ہمیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے یہ اچھا اقدام ہے، جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہیں، بہت ہو گیا سیاستدان پاکستان کی ترقی میں آڑے آ رہے ہیں، شیر افضل مروت (ایم این اے تحریک انصاف) نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ، بے انصافی سے تحفظ، اب قومی سلامتی کے ایشوز بن گئے، عالمی رابطہ سے معیار میں 142 ملکوں میں ہم 129 ویں نمبر پر ہیں میں گواہ ہوں کہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ سے ڈائیلاگ ہوتے رہے، عمران نے کبھی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں نامزد قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مذاکرات سے متعلق سماجی ذریعہ ابلاغ ’ایکس‘ پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ کس چیز کے مذاکرات؟ کسی نے میرے گھر پر ڈاکا ڈالا ہے اب اگر اس کے ساتھ مذاکرات کرنا ہیں تو وہ صرف اس بات پر ہوں گے کہ میرا لوٹا ہوا سامان واپس کر دو، البتہ اس میں کچھ کمی وغیرہ ہو تو ہم معاف کر دیتے ہیں، اگر کوئی اس معاملہ میں مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات کا کوئی ماحول نہیں، نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مذاکرات کی حامی ہے مگر اس معاملہ میں کوئی روشنی نظر نہیں آتی، آئین کی دفعہ 17 کے تحت ہر سیاسی جماعت کو سیاست کرنے کا حق ہے مگر ہماری جماعت کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں۔ دوسری جانب اطلاعات یہ ہیں کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کے ضمن میں گرین سگنل دے دیا ہے اور حکومتی وفد بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم حکومت کی طرف سے شرط عائد کی گئی ہے کہ مذاکرات تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں ہی سے ہوں گے غیر منتخب لوگوں سے بات چیت نہیں کی جائے گی جب کہ اسپیکر کے قریبی ذرائع کے مطابق تاحال تحریک انصاف کی طرف سے کسی رہنما نے مذاکرات کے لیے باضابطہ رابطہ نہیں کیا ہے۔ حزب اختلاف نے رضا مندی کا اظہار کیا تو اسپیکر فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، سیاست میں ان کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بلاشبہ اس ضمن میں زیادہ ذمے داری بھی حکومت وقت ہی پر عائد ہوتی ہے تاہم فریق ثانی یا حزب اختلاف کی ذمے داری بھی کچھ کم نہیں کیونکہ مذاکرات کی تالی بہرحال دونوں ہاتھوں سے بختی ہے اور کسی ایک فریق کے عدم تعاون اور رضا مندی کے بغیر مذاکرات کی بیل کا منڈھے چڑھنا محال ہے موجودہ صورت حال میں حکومت کی جانب سے اگرچہ مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی ہے اور وزیر اعظم نے اسپیکر کو مذاکراتی سلسلہ آگے بڑھانے کا اختیار بھی انہیں دیا ہے جب کہ تحریک انصاف میں مذاکرات سے متعلق واضح اختلاف رائے سامنے آ رہا ہے تحریک میں ایک حصہ اگر مذاکرات کا حامی ہے تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے موجودہ حکمرانوں سے مذاکرات کو بے مقصد اور بے معنی قرار دیا جا رہا ہے اور ان کی رائے میں یقینا وزن بھی ہے پہلی بات تو یہ کہ ایک جانب حکومت مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے تو دوسری جانب تحریک کے بانی، ان کی اہلیہ اور دوسرے رہنمائوں کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ تحریک کی قیادت اس لیے بھی مذاکرات کو آگے بڑھانے سے انکاری ہے کہ موجودہ حکومت کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، تمام اختیارات مقتدرہ کے پاس ہیں وہ جب چاہے گی مذاکراتی عمل کو بے نتیجہ ختم کرا دے گی۔ یہ دلائل اپنی جگہ درست ہیں تاہم حالات کو بند گلی میں جانے سے بچانے اور سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھنے کیلیے بہرحال مذاکرات لازم ہیں۔ ہاں ان کو سنجیدہ اور نتیجہ خیز بنانے کیلیے متعلقہ حلقوں سے ضروری یقین دہانیوں کا تقاضا ضرور کیا جاسکتا ہے۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے کی ضرورت ہے مذاکرات کے مذاکرات کی نے کہا کہ کے ساتھ نہیں کی کی طرف کے لیے کیا جا ہے اور

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان