جنوری جماعت اسلامی کی ممبر سازی کا مہینہ ہے‘ منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260109-08-25
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جنوری ممبر سازی کا مہینہ ہے۔ ہر یونین کونسل 4000 ممبر بنائے گی۔ جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندے ذمے داریوں سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ وہ گزشتہ روز جماعت اسلامی ضلع وسطی کے کارکنوں کے اجتماع سے الفلاح مسجد نارتھ ناظم آباد میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن، سیکرٹری سہیل زیدی نے بھی خطاب کیا اور نائب امیر حارث علی خان نے درس قرآن دیا۔ اجتماع میں اگلے سیشن کے لیے علاقہ جات کے ناظمین کے استصواب کا اعلان کیا گیا۔ اپنے خطاب میں منعم ظفر خان نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی مفقود ہے، بنیادی حقوق سلب ہیں، عدالتیں بنیادی جمہوری حقوق سے بڑی حد تک غیر متعلق ہیں۔ انتخابی تنازعات اب تک حل نہیں ہو سکے ہیں۔ ورقی و برقی میڈیا پابند ہے اور سوشل میڈیا پر قدغن ہیں۔ یہ صورتحال جمہوری قوتوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے عوام کی رائے کو کچل دیا گیا۔ فارم 47 کے خلاف سب سے زیادہ بلند آواز جماعت اسلامی ہی کی ہے۔ ہم ان سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی بولتے ہیں جن کا حق مارا گیا۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے 21 جنوری تا یکم فروری ’’کراچی اولمپکس‘‘ کی تفصیلات بھی بتائیں۔ قبل ازیں امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کے مایوس کن حالات میں حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ 78 سال میں پہلی بار عوام اپنے مسائل کی بنیادی وجہ سے آگاہ ہوچکے ہیں۔ یہ شعور عوام خصوصاً نوجوانوں کو درست سیاسی فیصلہ کرنے کی طرف لے جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں انقلاب جماعت اسلامی جیسی منظم اور نظریاتی جماعت ہی لا سکتی ہے۔ دوسری صورت میں افرا تفری پھیل سکتی ہے جو ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی امانتیں عوام کو واپس کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ عوام کو جماعت اسلامی سے منسلک کرنے کا کام بھی انجام دینا ہے۔ قبل ازیں سیکرٹری ضلع سہیل زیدی نے ناظمین علاقہ کے ناموں کا اعلان کیا۔ علاقہ فاروق اعظم شادمان کے ناظم خرم مبین، مسلم ٹاؤن کے عتیق الرحمن، بفر زون کے اشرف الحق، الفلاح کے ضیا جامعی، علاقہ عثمان غنی کے خضر محمد، علاقہ عباسی اسپتال کے فرقان الٰہی، ناظم آباد کے رضی حسن اور علاقہ گلبہار کے ناظم نعمان صدیقی ہوں گے۔ ضلع وسطی کی ٹیم کا بھی اعلان کیا گیا جس میں نائب امرا قیصر جمیل، اویس یاسین، عرفان حسن، حارث علی خان، سیکرٹری سہیل زیدی، ڈپٹی سیکرٹریز عاطف علی خان اور حبیب حنفی ہوں گے۔ اس کے علاوہ شعبہ قرآن و سنہ، مالیات، جے آئی یوتھ، تربیت و امیدواران، مساجد، الیکشن سیل، بلدیاتی کوآرڈینیشن، الخدمت، مؤثر طبقات، نشرو اشاعت، پبلک ایڈ، اطفال، اور شعبہ نماز فجر کے ذمے داران کا بھی اعلان بھی کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن ضلع وسطی کے اجتماع کارکنان سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی