پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کیلیے تاریخ کی مہنگی ترین ٹیم سیالکوٹ کے مالکانہ حقوق اوزیڈ گروپ نے 185 کروڑ روپے میں 10 سال کیلیے حاصل کرلیے ہیں۔

او زیڈ گروپ کے سربراہ مجید چوہدری ہیں جنہوں بولی کی تقریب میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ پی ایس ایل کی 8ویں اور تاریخ کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے کا اعزا بھی بنایا۔

اسلام آباد کے جناح کنونشن میں منعقد ہونے والی تقریب میں مجموعی طور پر دو ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ 3 ارب 60 کروڑ میں فروخت ہوئی۔

مجید چوہدری کون ہیں؟

او زیڈ گروپ اور پی ایس ایل کی فرنچائز فیصل آباد کے مالک مجید چوہدری کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور وہ دو سال قبل وطن واپس آئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز سے انہوں نے بولی کی تقریب سے قبل گفتگو کی اور کہا کہ بیرون ملک میں رہتے ہوئے ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ملک کیلیے کچھ کروں، کرکٹ وہ واحد چیز ہے جو پوری قوم کو متحد کرتی ہے اور مجھے
بچپن سے کرکٹ پسند ہے‘۔

مجید چوہدری نے بتایا کہ پی ایس ایل کی نئی ٹیم کے حوالے سے ڈیڑھ سال سے کام کررہا تھا، لوگ ہنستے ہیں کہ سب ملک سے بھاگ رہے ہیں اور میں پاکستان واپس آرہا ہوں۔


انہوں نے بتایا کہ مجھے آسٹریلیا سے پاکستان آئے ہوئے دو سال ہوگئے اور مجھے وطن کی محبت واپس لے کر آئی ہے۔

مجید چوہدری نے کہا کہ پی ایس ایل ہماری شناخت اور دنیا کی دوسری بڑی لیگ ہے جبکہ لیگ کی ٹاپ مینجمنٹ بھی کہتی ہے کہ اس کو دنیا کی سب سے بڑی لیگ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے اگر یہی معیار برقرار رہا تو ہم بہت جلد پہلے نمبر پر آجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل معیشت کی نمائندگی کرے گا کیونکہ اس نے ملک میں کرکٹ کی بحالی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ اب دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بن گیا ہے، جسے پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے۔

اپنی ٹیم کیلیے کسی غیر ملکی کھلاڑی کی خدمات لینے کے سوال پر مجید چوہدری نے کہا کہ ہمارے ملک نے کرکٹ کی دنیا میں بڑے نام پیدا کیا، کسی غیرملکی کے بجائے اپنے ملک کے مینٹورز کو استعمال کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شعیب اختر، شاہد آفریدی ہمارا پارٹ اور دونوں سے تعلق بھی اچھا ہے جبکہ وہ دونوں بڑے بھائی کی طرح ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہ پی ایس ایل پی ایس ایل کی مجید چوہدری نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت

فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔

69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان

سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔

Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz

— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف

اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔

اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا سابق  امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟

سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔

’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘

واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس