پی ایس ایل کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے والے مجید چوہدری کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کیلیے تاریخ کی مہنگی ترین ٹیم سیالکوٹ کے مالکانہ حقوق اوزیڈ گروپ نے 185 کروڑ روپے میں 10 سال کیلیے حاصل کرلیے ہیں۔
او زیڈ گروپ کے سربراہ مجید چوہدری ہیں جنہوں بولی کی تقریب میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ پی ایس ایل کی 8ویں اور تاریخ کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے کا اعزا بھی بنایا۔
اسلام آباد کے جناح کنونشن میں منعقد ہونے والی تقریب میں مجموعی طور پر دو ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ 3 ارب 60 کروڑ میں فروخت ہوئی۔
مجید چوہدری کون ہیں؟
او زیڈ گروپ اور پی ایس ایل کی فرنچائز فیصل آباد کے مالک مجید چوہدری کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور وہ دو سال قبل وطن واپس آئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے انہوں نے بولی کی تقریب سے قبل گفتگو کی اور کہا کہ بیرون ملک میں رہتے ہوئے ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ملک کیلیے کچھ کروں، کرکٹ وہ واحد چیز ہے جو پوری قوم کو متحد کرتی ہے اور مجھے
بچپن سے کرکٹ پسند ہے‘۔
مجید چوہدری نے بتایا کہ پی ایس ایل کی نئی ٹیم کے حوالے سے ڈیڑھ سال سے کام کررہا تھا، لوگ ہنستے ہیں کہ سب ملک سے بھاگ رہے ہیں اور میں پاکستان واپس آرہا ہوں۔
مزید پڑھیںپی ایس ایل میں نئی تاریخ رقم، ساتویں ٹیم 175 کروڑ، 8ویں فرنچائز 185 کروڑ میں فروخت
پی ایس ایل میں شامل ہونے والی 2 نئی ٹیموں کے نام کیا ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ مجھے آسٹریلیا سے پاکستان آئے ہوئے دو سال ہوگئے اور مجھے وطن کی محبت واپس لے کر آئی ہے۔
مجید چوہدری نے کہا کہ پی ایس ایل ہماری شناخت اور دنیا کی دوسری بڑی لیگ ہے جبکہ لیگ کی ٹاپ مینجمنٹ بھی کہتی ہے کہ اس کو دنیا کی سب سے بڑی لیگ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے اگر یہی معیار برقرار رہا تو ہم بہت جلد پہلے نمبر پر آجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل معیشت کی نمائندگی کرے گا کیونکہ اس نے ملک میں کرکٹ کی بحالی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ اب دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بن گیا ہے، جسے پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے۔
اپنی ٹیم کیلیے کسی غیر ملکی کھلاڑی کی خدمات لینے کے سوال پر مجید چوہدری نے کہا کہ ہمارے ملک نے کرکٹ کی دنیا میں بڑے نام پیدا کیا، کسی غیرملکی کے بجائے اپنے ملک کے مینٹورز کو استعمال کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شعیب اختر، شاہد آفریدی ہمارا پارٹ اور دونوں سے تعلق بھی اچھا ہے جبکہ وہ دونوں بڑے بھائی کی طرح ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل کی مجید چوہدری نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔