وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس کیسز کی سماعت سوموار تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم کیسز کی سماعت سوموار تک ملتوی کر دی گئی۔ کیسز کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافے نے پاکستان میں کاروبار کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
پاکستانی اثاثے خطرے میں، عالمی اداروں کی وارننگمخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے تمام اثاثوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، اور ایسے حالات میں اضافی ٹیکسز معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پٹرولیم کمپنیز ایکٹ کے تحت حاصل کردہ استثنیٰ کو سپر ٹیکس کے سیکشن 4 سی کے ذریعے متاثر کیا گیا ہے، جو قانون کی روح کے خلاف ہے۔
صدر کے اختیارات فردِ واحد نہیں، آئینی دائرے میں ہیںمخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدرِ پاکستان کو حاصل اختیارات کسی فردِ واحد کے ذاتی اختیارات نہیں بلکہ وہ یہ اختیارات بطور ایگزیکٹو اتھارٹی آف فیڈریشن استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ اس اصول پر زور دیتی آئی ہیں کہ قوانین کی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہے۔
1948 کے قوانین کی خلاف ورزی کا مؤقفوکیل کے مطابق پٹرولیم کمپنیوں کا استثنیٰ ختم کرکے ٹیکس ایکٹ 1948 اور پٹرولیم کمپنیز ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایکٹ 1948 کے تحت پٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنیوں کو دی گئی چھوٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہمخدوم علی خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھی یہی قرار دیا تھا کہ دائرہ اختیار کے مطابق جو قانونی چھوٹ بنتی ہے، وہ دی جانی چاہیے۔
دلائل کے اختتام پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی حد مقرر کرنا بلاشبہ وفاق کا اختیار ہے، تاہم اس اختیار کا استعمال زیادتی کے بغیر ہونا چاہیے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیسز کی مزید سماعت سوموار تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مخدوم علی خان نے کیسز کی کہا کہ
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :