آئی ایم ایف پروگرام 2027 تک ہمارا پروگرام ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام 2027 تک ہمارا پروگرام ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 2022 میں جب ہم حکومت میں آئے تو فون کر کے ایل سی کھلوانی پڑتی تھی، اس وقت ہم اندرونی طور پر تقریباً ڈیفالٹ ہوچکے تھے۔
احسن اقبال نے کہا کہ یکم اپریل 2022 کو وزارت خزانہ نے ہاتھ کھڑے کردیے تھے، وزارت خزانہ نے کہا ترقیاتی بجٹ کی آخری سہ ماہی کی قسط جاری نہیں کریں گے، اس وقت ہم جہاں آگئے ہیں یہ حیرت انگیز ریکوری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فچ، اسٹینڈرڈ اینڈ پور، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا، مہنگائی 38 فیصد کے حساب سے اوپر جارہی تھی، آج وہ 4 فیصد پر آگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 کروڑ 6 لاکھ ڈالر اضافے سے 16 ارب 5 کروڑ ڈالر ہوگئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ بڑھ رہی ہے، ہم تجارتی خسارے کو روکیں گے، سکھر حیدرآباد موٹر وےکی تعمیر شروع کی ہے، یہ 2028 تک مکمل ہو جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ کے اندر ایکسپورٹ کی صلاحیت بڑھانے والے سیکٹرز پر ڈیوٹیز کو کم کیا، مشینیں ملک میں لانے کے لیے یہ اقدام کیا تاکہ ایکسپورٹ بڑھانے کی صلاحیت بڑھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہا کہ
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں