امریکا اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات، پاکستان کا عالمی تشخص مزید مضبوط
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان کی متوازن، حقیقت پسندانہ اور اصولی خارجہ پالیسی کے مثبت اثرات اب عالمی سطح پر نمایاں طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں مختلف عالمی حلقے پاکستان کو ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور مؤثر ریاست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ برسوں میں حکومت، ریاستی اداروں اور عوام کی جانب سے قومی معاملات بالخصوص دہشت گردی کے خلاف یکساں اور دوٹوک مؤقف نے پاکستان کے بیانیے کو عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے، جسے بین الاقوامی جریدے اور سفارتی ماہرین کھلے الفاظ میں سراہ رہے ہیں۔
عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک نہایت محتاط اور دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بیک وقت امریکا کے ساتھ تعمیری تعلقات اور چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ اس حکمت عملی نے پاکستان کو خطے میں مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اس کی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان نے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کو فروغ دیا ہے۔
چین جسے پاکستان کا آئرن برادر کہا جاتا ہے نے خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر کردار اور فعال سفارت کاری کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق چین پاکستان کو نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہوا ملک تصور کرتا ہے بلکہ اسے ایسا ریاستی شراکت دار بھی سمجھتا ہے جو اپنی سرحدوں سے باہر بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات کے باوجود پاک چین دوستی درست سمت میں مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جو پاکستان کی متوازن سفارت کاری کا عملی ثبوت ہے۔
چین نے پاکستان کے عالمی اور علاقائی کردار کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے اہم عالمی فورمز پر پاکستان کو قیادت کے لیے موزوں اور اہل قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھی چین کے اصولی مؤقف کو اجاگر کیا گیا ہے، جہاں اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔
افغانستان کے معاملے پر بھی چین نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغان طالبان سے جامع حکومت کے قیام اور شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی افغان حکومت کو اعتدال پسندی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی تلقین کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستان کو نے پاکستان پاکستان کے کے مطابق کے ساتھ دیا ہے کیا ہے
پڑھیں:
خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر نئی پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔
حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے۔
The Houthi rebels of Yemen have resumed their attacks on Red Sea shipping, helping push oil prices above $100 a barrel for the first time in two months. Here's what to know https://t.co/z1WTQNtx7z
— Bloomberg (@business) July 24, 2026
یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔
تاہم دوسرے جہاز کی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ کی سینیئر میری ٹائم انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل بوکمین کے مطابق حوثیوں کی ناکہ بندی کی نوعیت ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے ماہرین خاص طور پر اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا چینی ملکیت کے آئل ٹینکر باب المندب سے بحفاظت گزر سکتے ہیں یا نہیں۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو سعودی خام تیل لے جانے والے 2 ایسے جہاز باب المندب سے گزرے جن کا عملہ اور منزل چین تھی اور انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں تیل کے بجائے جہازوں کی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں نے ماضی میں بھی چین کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا تھا، جبکہ 2023 سے 2025 کے دوران انہوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور امریکا سے وابستہ تجارتی جہازوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی حکمت عملی غیر متوقع ہوتی ہے، تاہم وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محدود کارروائیاں بھی عالمی تیل کی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، تیل کی عالمی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی سے وابستہ ماہر ریچل زیمبا کا کہنا ہے کہ باب المندب کا موجودہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد عالمی خام تیل کے ذخائر مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔
ان کے مطابق متعدد اہم بحری گزرگاہوں پر بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اثراتماہرین کے مطابق خام تیل کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتیں بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.34 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔
گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے دوران امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 سے 20 سینٹ فی گیلن اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ زیادہ ہے کیونکہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی متعدد آئل ریفائنریاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں روس نے ڈیزل کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔
چین کا کردار بھی اہمتجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں چین کا کردار بھی اہم ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں چین نے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی، جس سے عالمی طلب پر دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں اضافے کی رفتار محدود رہی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین دوبارہ بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنا شروع کرتا ہے یا اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے بجائے بیرونی خریداری بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، روسی ریفائنریوں کی مشکلات اور امریکا میں آنے والے سمندری طوفانوں کا موسم، یہ تمام عوامل آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز امریکا باب المندب بحری گزرگاہوں پیٹرول چین حوثی خام تیل ڈالر فی گیلن ڈرون ڈیزل روس مشرق وسطیٰ یمن یوکرین