پاکستان کی متوازن، حقیقت پسندانہ اور اصولی خارجہ پالیسی کے مثبت اثرات اب عالمی سطح پر نمایاں طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں مختلف عالمی حلقے پاکستان کو ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور مؤثر ریاست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ برسوں میں حکومت، ریاستی اداروں اور عوام کی جانب سے قومی معاملات بالخصوص دہشت گردی کے خلاف یکساں اور دوٹوک مؤقف نے پاکستان کے بیانیے کو عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے، جسے بین الاقوامی جریدے اور سفارتی ماہرین کھلے الفاظ میں سراہ رہے ہیں۔

عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک نہایت محتاط اور دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بیک وقت امریکا کے ساتھ تعمیری تعلقات اور چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ اس حکمت عملی نے پاکستان کو خطے میں مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اس کی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان نے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کو فروغ دیا ہے۔

چین جسے پاکستان کا آئرن برادر کہا جاتا ہے نے خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر کردار اور فعال سفارت کاری کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق چین پاکستان کو نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہوا ملک تصور کرتا ہے بلکہ اسے ایسا ریاستی شراکت دار بھی سمجھتا ہے جو اپنی سرحدوں سے باہر بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات کے باوجود پاک چین دوستی درست سمت میں مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جو پاکستان کی متوازن سفارت کاری کا عملی ثبوت ہے۔

چین نے پاکستان کے عالمی اور علاقائی کردار کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے اہم عالمی فورمز پر پاکستان کو قیادت کے لیے موزوں اور اہل قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھی چین کے اصولی مؤقف کو اجاگر کیا گیا ہے، جہاں اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

افغانستان کے معاملے پر بھی چین نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغان طالبان سے جامع حکومت کے قیام اور شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی افغان حکومت کو اعتدال پسندی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی تلقین کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستان کو نے پاکستان پاکستان کے کے مطابق کے ساتھ دیا ہے کیا ہے

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران