وفاقی آئینی عدالت نے پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے حق میں بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کو تمام درخواست گزاروں کو ماہانہ اولڈ ایج پنشن ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ ساڑھے 14 سال سروس مکمل کرنے والے ملازمین پنشن کے مکمل حقدار ہوں گے، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے ای او بی آئی کی جانب سے دائر تمام اپیلیں خارج کر دیں اور لاہور ہائیکورٹ کے 2024 اور 2025 میں دیے گئے فیصلوں کو برقرار رکھا۔عدالت نے قرار دیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے درست اور قانون کے عین مطابق ہیں، اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سروس کا 6 ماہ یا اس سے زائد عرصہ پورا ایک سال تصور کیا جائے گا اور پنشن کے معاملے میں راؤنڈنگ آف کا اصول لاگو ہوگا۔عدالت کے مطابق ساڑھے 14 سال یا اس سے زائد سروس مکمل کرنے والے ملازمین کو 15 سال سروس مکمل تصور کیا جائے گا۔عدالت نے ای او بی آئی کے 2022 کے سرکلر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی انتظامی سرکلر ملازمین کے آئینی اور قانونی پنشن کے حق کو متاثر نہیں کر سکتا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فلاحی قوانین کی سخت تشریح کے ذریعے ملازمین کو پنشن سے محروم کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔

یہ فیصلہ ملک بھرکے لاکھوں پرائیویٹ ملازمین کے لئے ریلیف اورسماجی تحفظ کے نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عدالت نے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ