Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:59:03 GMT

نئے مالی سال 27-2026ء کا بجٹ، کاروباری برادری سے تجاویز طلب

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

نئے مالی سال 27-2026ء کا بجٹ، کاروباری برادری سے تجاویز طلب

اسلام آباد:(نیوزڈیسک)حکومت نے مالی سال 27-2026ء کے بجٹ پر ایف بی آر فیلڈ فارمشنز کے بعد اب کاروباری برادری سے بھی تجاویز طلب کرلیں۔

اس ضمن میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور تاجر تنظموں سے کہا گیا ہے کہ 30 جنوری 2026ء تک بجٹ تجاویز ٹیکس پالیسی آفس کو ارسال کردیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا، اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے جو بجٹ تجاویز بھجوائی ہیں ان کے ساتھ اس کے جواز بھی پیش کیے جائیں اوریہ بھی بتایا جائے کہ کس تجویز کا ٹیکس ریونیو پر کیا اثرپڑے گا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب چونکہ ٹیکس پالیسی آفس آپریشنل ہوچکا ہے اس لئے اب ایف بی آر کے بجائے وزارت خزانہ بجٹ تیار کرے گی۔ ٹیکس پالیسی آفس کو ٹیکس اصلاحات کی مکمل ذمہ داری دے دی گئی۔ بجٹ سازی میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ، ترجیحات بھی طے ہوگئی ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق برآمدات بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ترجیح ہے، نئے بجٹ میں صنعتوں پر ٹیکس بوجھ کم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت مینوفیکچرنگ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلیے پرعزم ہے۔

نئے بجٹ میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ٹیکس سہولتوں پرغور کیا جارہا ہے، ماحول دوست اور سستی توانائی منصوبوں کو ترجیح قرار دے دیا گیا۔ خواتین کی ملازمت اور نوجوانوں کے روزگار پر توجہ دی جائے گی حکومت ٹیکس نظام میں پیچیدگیاں اور نا انصافیاں ختم کرنے کا عزم ہے، تجارتی تنظیموں کو ٹیکس تجاویز ای میل یا بذریعہ ڈاک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ نے بجٹ تجاویز کیلئے خصوصی فارم بھی جاری کر دیا، ٹیکس تجاویز، بیک گراوٴنڈ اورقوانین میں ترامیم کا جواز بھی دینا ہوگا۔ تجاویز میں ریونیو اور معاشی اشاریوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بتانا لازمی ہوگا، ٹیکس تجاویز سے کسی خاص کاروباری شعبے پرممکنہ اثرات کے بارے میں بھی آگاہ کرنا ہوگا، صرف ٹھوس ٹیکس تجاویز کو ہی بجٹ سازی کے دوران ترجیح دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹیکس پالیسی ا فس ٹیکس تجاویز

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا