عالمی تبدیلی کے تناظر میں مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کڑی تنقید کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ہندوتوا انتہاپسندی میں مبتلا مودی کے غرور کو عالمی سطح پر سفارتی پسپائی نے مٹی میں ملا دیا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کی توثیق کے بعد بھارتی جرائد بھی بھارت میں مستقل خوف اور غیر یقینی کیفیت کا اعتراف کرنے لگے ہیں۔ بھارتی جریدہ دی پرنٹ نے امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریاست میں پھیلے خوف اور سفارتی ناکامی کا پردہ فاش کر دیا ہے۔
دی پرنٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ امریکی صدر ٹرمپ کی مودی کیلئے تضحیک آمیز زبان کے خوف کا شکار ہے۔ بھارتی جریدہ کے مطابق امریکی ٹیرف میں مزید اضافہ، سخت امیگریشن قوانین اور ویزا منسوخی نے بھارتی عوام کو شدید خوفزدہ کر دیا ہے۔
دی پرنٹ کے مطابق 1971 کی جنگ میں امریکا نے کھل کر پاکستان کی حمایت کر کے بھارت کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے قریبی اتحادی بن کر مودی کو شدید حیرت اور خوف میں ڈال چکے ہیں۔
دی پرنٹ کے مطابق بی جے پی نے ٹرمپ کو مسلمانوں سے نفرت کرنے والا شدت پسند سمجھنے کی سنگین غلطی کی۔ دی پرنٹ نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کے قریبی دوستوں میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک شامل ہیں۔
بھارتی جریدہ "فورس" بھی بھارت کی خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کی بدلتی بساط میں غلط سمت اختیار کرنے کا انکشاف کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت بھارت مخالف فیصلوں نے مودی حکومت کو شدید سیاسی و سفارتی دھچکا دیا ہے۔
ماہرین نے روس کے ساتھ مودی کی طاقت کے نشے میں اندھی وابستگی کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔