پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کیلئے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کیلئے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس ) پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کے لیے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم لانے کے لیے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر تیار ہو گئی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل مقرر کرنے کی خدمات لی جائیں گی، قبضے سے متعلق ضلعی کمیٹیوں کو درخواستیں بھیجنے کا اختیار سول جج کو دیا جائے گا، کمیٹی براہ راست زیر التوا کیسز پر فیصلہ نہیں کر سکے گی۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف آنے والی درجنوں درخواستوں کے بعد اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا، پنجاب حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لئے اعلی سطح پر قانونی کمیٹی تشکیل دے دی تھی جس نے عدلیہ اور وکلا کے اعتراضات کے مطابق قانون میں ترامیم تیار کر لی ہیں۔
پنجاب حکومت کے ایک اعلی سطح کے ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ ترامیم کے مطابق پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت درخواست سنے جانے کا فیصلہ سول جج کرے گا، اس ترمیم کے بعد ایسے کیسز جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان میں درخواست گزاروں نے ناجائز قبضہ کیے جانے کو درخواست کا حصہ بنایا ہے ایسی درخواستوں کو ضلعی کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا اختیار سول جج کے پاس ہوگا، یعنی درخواست براہ راست انتظامی کمیٹی کو نہیں دی جا سکے گی۔
اس سے قبل کمیٹی کے کنوینیر کو درخواست دائر کرکے سول عدالت کو کیس کمیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا جب کہ نئی ترمیم کے مطابق دونوں میں سے ایک فریق خود سول عدالت میں کیس کمیٹی کے پاس بھیجنے کی درخواست کرے گا جس کے بعد سول جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کیس کو کمیٹی کے پاس بھیجے گا یا نہیں۔
اس کے علاوہ حکومت ٹربیونلز کے لئے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کی خدمات لے گی، اس سے پہلے ٹربیونلز کی سربراہی ریٹارئرڈ ججز کو دی گئی تھی، ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل کو ختم کردیا جائے گا، جب کہ ٹربیونل کے عبوری حکم کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا، اس سے پہلے قانون میں ہائیکورٹ کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس اعلی سطح کی قانونی کمیٹی کی سربراہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کر رہے ہیں، کمیٹی مین سیکرٹری قانون پنجاب سمیت دیگر ماہرین اقدامات کررہے ہیں، نئی مجوزہ ترامیم میں جوڈیشل ریویو شامل کر کے پنجاب حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی ترامیم میں عدلیہ اور وکلا تنظیموں کو بھی آن بورڈ لیا جا رہا ہے، ان ترامیم کی تمام فریقین کی منظوری کے بعد عدلیہ اور حکومت کے مابین کشمکش کا تاثر ختم ہو جائے گا، ترمیمی مسودے کو جلد حتمی شکل دیکر پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کی جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراگرخیبرپختونخوا میں آپریشن ہوا توکھلی بدمعاشی ہو گی: سہیل آفریدی اگرخیبرپختونخوا میں آپریشن ہوا توکھلی بدمعاشی ہو گی: سہیل آفریدی ترکی بھی سعودی، پاکستان دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، بلومبرگ وزیر خارجہ اسحاق ڈار دورہ سعودی عرب کیلئے آج رات روانہ ہوں گے کینسر کے مریضوں کیلئے بڑی خبر، مفت ادویات کی فراہمی کیلئے حکومت نجی کمپنی سے معاہدہ امریکی پالیسیاں عالمی نظام کو تباہ کر رہی ہیں؛ دنیا کو لٹیرے سے بچانا ہے؛ جرمن صدر تمام اہم اقتصادی فیصلوں کو قومی اقتصادی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے،اسحاق ڈارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پراپرٹی اونر شپ ایکٹ شپ ایکٹ میں ترمیم پنجاب حکومت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.