سہیل آفر یدی کی ریلی کے دوران جیب کتروں نے درجنوں شہریوں کو لوٹ لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفر یدی کی کراچی آمد کے موقع پر ریلی کے دوران جب کتروں کی وارداتیں بڑھ گئیں اور درجنوں افراد اپنے موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم ہوگئے۔
ایئر پورٹ تھانے کے مطابق متاثرہ شہری جیب کتروں کی شکایت درج کرانے تھانے پہنچے، ایک جیب کترے کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اس کے قبضے سے 4 موبائل فون برآمد کر کے پولیس کے حوالے کر دیے گئے۔
متاثرین نے بتایا کہ جیب کتروں نے پہلے ایئرپورٹ کے مقام پر شہریوں کی جیبیں کاٹیں اور بعد ازاں شارع فیصل پر بھی رش کے دوران وارداتیں کیں، ایک شہری نے کہا کہ اس کا پرس اور دیگر ساتھیوں کے موبائل فون و پرس بھی چوری ہو گئے، جن میں اہم دستاویزات اور قیمتی اشیاء شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق دو درجن سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 7 شہری ایئر پورٹ تھانے رپورٹ درج کرانے آئے، جیب کتروں کے ہاتھوں شہریوں کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں جو واردات کی عکاسی کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موبائل فون جیب کتروں
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔