اسلام آباد میں پانی کا بحران، وفاقی حکومت کا ہنگامی ایکشن پلان نافذ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ایکشن پلان نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہفتے کے روز وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہروں میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے قلیل اور طویل المدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے کن علاقوں میں پانی کی سپلائی کم کی جارہی ہے اور کیوں؟
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے مشیر سید توقیر شاہ، وزارت داخلہ، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واپڈا اور راولپنڈی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
اسلام آباد میں پانی کی کمی کے سدباب کیلئے جامع پلان پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کا فیصلہ
اجلاس کو چراہ، دوتارہ اور شاہدرہ ڈیم منصوبوں پر جامع بریفنگ دی گئی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے روڈ میپ پر عملدرآمد کا جامع پلان 10 روز میں طلب کر لیا pic.
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 10, 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ سی ڈی اے پنجاب حکومت کے اشتراک سے نئے ڈیمز تعمیر کرے گی تاکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی طویل المدتی پانی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اجلاس میں چراہ، دوتیرہ اور شاہدرا سمیت مختلف چھوٹے ڈیمز اور آبی ذخائر سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے 16 فیصد فلٹریشن پلانٹس کا پانی آلودہ، سی ڈی اے کا اعتراف
واپڈا اور سی ڈی اے حکام نے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹس، ٹائم لائنز اور مختلف آپشنز پیش کیے۔
اجلاس میں دوتیرہ ڈیم کی منظوری دی گئی جو یومیہ 110 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے 2 سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے موجودہ پانی کی ترسیل کے نظام میں خامیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سسٹم کی فوری جانچ کی جائے اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو پانی کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بیشر علاقوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، راولپنڈی میں ایمرجنسی نافذ
محسن نقوی نے قلیل المدتی منصوبے کے تحت فوری اور عملی اقدامات کرنے، دستیاب تمام وسائل بروئے کار لانے اور پانی چوری و غیر قانونی کنکشنز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا بھی حکم دیا۔
اس کے علاوہ تمام آبی منصوبوں پر عملی پیشرفت کے لیے 10 دن کا جامع روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد پاکستان پانی ہنگامی اجلاس وزارت داخلہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد پاکستان پانی ہنگامی اجلاس وزارت داخلہ پانی کی فراہمی میں پانی کی اسلام ا باد اسلام آباد وزیر داخلہ محسن نقوی کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں