وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
فوٹو سوشل میڈیا۔سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔
حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق سے خیبر پختونخوا کو حقوق نہیں مل رہے، صوبے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پنجاب بھی گیا لیکن وہاں ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، وفاق میں ہماری حکومت تھی، وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع سے پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ آیا ہے، دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ کے لیے جہاز کھڑے رہتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ دیگر وزیراعلیٰ کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، یہ اختلاف میری ذات کے ساتھ نہیں صوبے کے ساتھ ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا شیئر چاروں صوبوں میں تقسیم نہیں ہو رہا، قبائلی اضلاع کو مالی نہیں صرف انتظامی شیئر میں شامل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی کے ساتھ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔