ملتان سلطانز کے سابق کپتان محمد رضوان اس بار پی ایس ایل کی کس ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پی ایس ایل 11 کے ڈرافٹ سے قبل سابق ملتان سلطانز کپتان محمد رضوان ایک بار پھر خبروں کا مرکز بن گئے ہیں۔ اگر ملتان سلطانز نے انہیں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا تو نئی فرنچائز سیالکوٹ انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنے کی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آرہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانز کی ملکیت کا معاہدہ ختم ہونے کے قریب، پی سی بی فرنچائز کا کنٹرول سنبھالے گا
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیالکوٹ فرنچائز کی جانب سے محمد رضوان کو کپتان بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، بشرطیکہ وہ ملتان سلطانز سے دستیاب ہو جائیں۔ نئی فرنچائز اپنی ٹیم کی بنیاد رکھنے کے لیے کسی تجربہ کار پاکستانی انٹرنیشنل کھلاڑی کو قیادت سونپنے کی خواہاں ہے۔
سیالکوٹ کی انتظامیہ کوچنگ اسٹاف کے لیے بھی مختلف آپشنز پر غور کررہی ہے اور سابق آل راؤنڈر اظہر محمود کو کوچ بنانے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سیالکوٹ فرنچائز کے مالک حمزہ مجید پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ٹیم کا کپتان پاکستان یا آسٹریلیا سے ہوگا، جس کے بعد محمد رضوان کا نام مزید مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی نئی ٹیم ‘سیالکوٹ’ خریدنے والے حمزہ مجید کے پسندیدہ کھلاڑی کون ہیں؟ نام بتا دیے
دوسری جانب ملتان سلطانز میں بھی قیادت کے معاملے پر صورتحال غیر یقینی ہے۔ محمد رضوان کے کپتانی چھوڑنے کے بعد، جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے علی ترین کی علیحدگی کے بعد فرنچائز کے انتظامی امور سنبھالے، تو قیادت کے لیے نئے ناموں پر غور شروع ہوا، سلمان علی آغا کو ممکنہ کپتان کے طور پر زیر غور لایا جارہا ہے۔
ادھر سیالکوٹ فرنچائز کی تیاریوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، فرنچائز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹیم کا باضابطہ نام، صدر اور لوگو آئندہ چند دنوں میں سامنے لایا جائے گا، جس کے ساتھ ہی پی ایس ایل کے 2026 کے توسیع شدہ سیزن سے قبل ٹیم کی شناخت مکمل کر لی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی ایس ایل پی سی بی سیالکوٹ محمد رضوان ملتان سلطانز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی سیالکوٹ محمد رضوان ملتان سلطانز ملتان سلطانز محمد رضوان پی ایس ایل کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ