اسلام آباد:

خیبر پختونخوا حکومت نے خبردار کیا ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اور دیگر وعدوں کے تحت وفاق کی جانب سے فنڈز کے اجرا میں مسلسل کمی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ 157 ارب روپے کے کیش سرپلس کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ایف بی آر کی جانب سے سال کے پہلے چھ ماہ کا ہدف پورا کرنے میں ناکامی کے باعث صوبے کو این ایف سی کے تحت تخمینہ شدہ حصے سے 76 ارب روپے کم ملنے پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو متنبہ کیا ہے۔

اربوں روپے کے ناجائز انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ایڈوانس لینے اور ریفنڈز کی ادائیگیوں کو سست کرنے کے باوجود ایف بی آر اصل ٹیکس ہدف سے 545 ارب روپے اور نظرثانی شدہ ہدف سے 330 ارب روپے پیچھے رہا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کا یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب ایف بی آر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے باوجود ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے۔

مشیر خزانہ نے اس ہفتے لکھا کہ یہ واضح ہے کہ وفاقی فنڈز کی منتقلی میں مسلسل کمی 157 ارب روپے کے بجٹ سرپلس کے حصول کے لیے ایک سنگین اور فوری خطرہ ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے پوچھے جانے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

یہ پیش رفت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے 4.

5 ٹریلین روپے کے بقایاجات روکنے کے دعوؤں اور پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف 8 فروری کو ہڑتال کرنے کے فیصلے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔

موجودہ مالی سال کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں نے 1.46 ٹریلین روپے کا کیش سرپلس فراہم کرنے کا عہد کیا ہے جو قومی معیشت کے حجم کے 1.1 فیصد کے برابر ہے۔

کیش سرپلس کے ہدف کو پورا کرنا آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط ہے ۔ اس کا مطلب 2.1 ٹریلین روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس ہدف کو ظاہر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن صوبوں کا کہنا ہے کہ وہ رقم صرف تب ہی فراہم کر سکتے ہیں جب ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کر لے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹیکسوں میں 20 فیصد نمو حاصل کرے گی لیکن اب تک ایف بی آر بمشکل 10 فیصد نمو حاصل کر سکا ہے۔

مزید پڑھیں

آئی ایم ایف سے رعایتیں لینے کیلیے وزارتوں سے تجاویز طلب

سال 2030 تک پاکستان کی معیشت میں نمایاں اضافے کا امکان، آئی ایم ایف کی پیشگوئی

آئی ایم ایف کی کڑی شرط؛ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے جامع پلان تیار

صدر آصف علی زرداری نے نئے ایوارڈ پر غور کے لیے گیارہواں این ایف سی تشکیل دیا ہے۔ پہلا اجلاس گزشتہ ماہ ہوا تھا اور تمام شراکت داروں نے دوسرا اجلاس جنوری کے دوسرے ہفتے تک منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صوبائی مشیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی، سٹریٹ ٹرانسفرز اور ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص فنڈز کے حوالے سے ریونیو کی رکاوٹیں ناگزیر اخراجات، بشمول سیلاب کے ردعمل اور بحالی پر خرچ ہونے والے 28 ارب روپے کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہیں۔

صوبائی مشیر خزانہ نے مزید لکھا کہ صوبائی حکومت نے داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) پر بھی 7 ارب روپے خرچ کیے ہیں جس سے بجٹ پر مزید دباؤ پڑا ہے۔ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر خزانہ پر زور دیا کہ وہ فوری اصلاحی اقدامات کریں۔

بجٹ کے مفروضوں کے مطابق وفاقی منتقلیوں کی بروقت اور یقینی وصولی کے اقدامات کیے جائیں۔ مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ پہلے چھ ماہ کے وفاقی ٹیکس واجبات میں خیبر پختونخوا کا حصہ 643 ارب روپے تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک فیصد حصہ بھی شامل ہے لیکن اصل وصولی 567 ارب روپے رہی۔

وفاقی حکومت کے ساتھ خط و کتابت کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے لیے کل 292 ارب روپے مختص کیے تھے۔ اس میں جاری اخراجات کے لیے 143 ارب روپے، سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت 40 ارب روپے، ایکسلریٹر امپلی منٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت 50 ارب روپے، ٹی ڈی پیز کے لیے 17 ارب روپے اور 3 فیصد این ایف سی شیئر کی نمائندگی کرنے والے 43 ارب روپے شامل ہیں۔

مشیر خزانہ کے مطابق 292 ارب روپے کے مختص فنڈز کے مقابلے میں اب تک اصل اجرا صرف 56 ارب روپے ہوا ہے جو سالانہ فراہمی کا صرف پانچواں حصہ ہے اور اس نے ان تاریخی طور پر پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی کو شدید محدود کر دیا ہے۔

مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسلریٹڈ امپلی منٹیشن پروگرام کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے صفر فنڈ جاری ہونے کے باوجود صوبے نے 26.4 ارب روپے جاری کیے ہیں۔

اسی طرح ضم شدہ اضلاع کے جاری اخراجات کے لیے اب تک 63 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے صرف 46 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کہا کہ سٹریٹ ٹرانسفرز کے تحت فنڈز کا اجرا بھی اتنا ہی سنگین مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 115 ارب روپے کے سالانہ بجٹ کے مقابلے میں اب تک اصل اجرا صرف 19 ارب روپے رہا ہے۔ اسی طرح نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کا بجٹ 106 ارب روپے ہے اور پہلے چھ ماہ کے دوران صرف 18 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی خیبر پختونخوا وفاقی حکومت ارب روپے کے ایف سی کیش سرپلس ایف بی ا ر حکومت نے فنڈز کے کرنے کے کے تحت کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ