ڈی پی او کرم ملک حبیب خان نے نشست میں شریک طلباء کو ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام، سوشل میڈیا کے مثبت، ذمہ دارانہ اور بامقصد استعمال، ایجوکیشن، منشیات جیسے ناسور کے خلاف مشترکہ جدوجہد، نوجوانوں کے تعمیری کردار اور پولیس و طلبہ کے درمیان مضبوط، مؤثر اور دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اسلام ٹائمز۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرم ملک حبیب خان نے اپر کرم پاراچنار میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کے ساتھ ڈی سی کانفرنس روم میں ایک نشست کا انعقاد کیا۔ اس نشست میں گورنمنٹ کالج آف منیجمنٹ سائنسز (GCMS) پاراچنار، خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU)، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج (GPGC) اور گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ (GPI) کے طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر 73 بریگیڈ میجر احمد الحق بھی موجود تھا۔ ڈی پی او کرم ملک حبیب خان نے نشست میں شریک طلباء کو ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام، سوشل میڈیا کے مثبت، ذمہ دارانہ اور بامقصد استعمال، ایجوکیشن، منشیات جیسے ناسور کے خلاف مشترکہ جدوجہد، نوجوانوں کے تعمیری کردار اور پولیس و طلبہ کے درمیان مضبوط، مؤثر اور دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ افواہوں، منفی پروپیگنڈے اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں سے گریز کریں اور علم، شعور اور مثبت سوچ کے ذریعے معاشرے میں امن و استحکام کے سفیر بنیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت