کراچی روانگی کے دوران رکاوٹوں کا سامنا، جلسہ ہر صورت ہوگا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ حیدرآباد سے کراچی واپسی کے دوران ان کے قافلے کو جان بوجھ کر شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث معمول کا سفر ساڑھے سات گھنٹوں میں طے کرنا پڑا۔
کراچی پہنچنے کے بعد جاری ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سے روانگی کے بعد ان کا راستہ مختلف مقامات پر روکا گیا اور انہیں دانستہ طور پر ویران اور غیر معمولی راستوں کی طرف موڑا گیا،یہ تمام اقدامات انہیں کراچی پہنچنے سے روکنے کے لیے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود وہ بحفاظت کراچی پہنچ چکے ہیں اور اعلان کیا کہ پارٹی کا جلسہ ہر صورت ہوگا۔
دوسری جانب یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کراچی کے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو باغِ جناح میں جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے، اس کے باوجود پی ٹی آئی نے مزارِ قائد کے گیٹ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صورتحال پر انتظامیہ اور سیاسی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔