ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاکستان، بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے بنگلہ دیش ٹیم کے بھارت نہ جانے کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پی سی بی ذرائع کے مطابق اگر سری لنکا کے وینیوز دستیاب نہ ہوئے تو پاکستان اپنے میدان پیش کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں چیمپیئنز ٹرافی اور آئی سی سی ویمنز کوالیفائر کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں، اس لیے ورلڈ کپ کے میچز کا انعقاد بھی بغیر کسی مشکل کے ممکن ہے۔
پی سی بی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کے تمام وینیوز ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز کرانے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ورلڈ کپ میچز کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے آئی سی سی کے جواب کا منتظر ہے۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا
تاہم بنگلہ دیش کے میچز کو کسی اور ملک منتقل کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان، بنگلہ دیش پی سی بی ٹی20 ورلڈ کپ 2026.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان بنگلہ دیش پی سی بی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 ٹی20 ورلڈ کپ کرکٹ بورڈ بنگلہ دیش پی سی بی کے میچز کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔